شوہر کے چار سال تک خبر نہ لینے اور نفقہ نہ دینے سے نکاح کی حیثیت
محترم حضرت اختر رضا خاں از هری صاحب! السلام علیکم بعد سلام کے معلوم ہو کہ میری لڑکی نیاز فاطمہ چار سال سے میرے گھر پر ہے اور اس کے شوہر نے چار سال سے نہ کھانا یا نہ کپڑا دیا اور نہ ہی گھر پر آیا اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی پورا کرنے کو راضی ہے اور اس کی چار سال کی لڑکی بھی ہے نہ ہی اس کو کچھ دیا نہ لیا۔ ہم لوگوں نے اس کو کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے جاؤ لیکن وہ نہیں آیا اور ہم لوگ چار سال تک کھانا کپڑا ما لجھتے رہے، اس نے نہیں دیا اور میری لڑکی نے بھی مانگا۔ اور اب پانچ مہینے ہو گئے اس نے اپنی دوسری شادی کر لی۔ اب آپ فتویٰ دیجئے کہ اس طرح لڑکی کا نکاح قائم ہے یا نہیں؟ المستفتی : ماسٹر نذیر خاں دو با والا چال نمبر ۲۴، روم نمبر ۹ شکر روڈ ، نارم پاٹھ بمبئی نمبر ۴۰۰۰۳
الجواب: نکاح قائم ہے۔ جب تک طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے ، دوسرا نکاح حرام قطعی ہے۔ اس شخص سے جس طرح بنے ، طلاق لی جائے ، خواہ کچھ دے کر یا مہر معاف کر کے خواہ حاکم کے جبر و اکراہ سے زبانی طلاق کہلوالیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی شب ۲۲ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ