تین طلاق کے بعد بیوی کے ساتھ رہنے کا حکم
طلاق مغلظہ کے بعد کیا حکم شرع ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین بار طلاق دی ہے۔ اس کے گواہ چند اشخاص اور بھی ہیں اور زیدا اپنی بیوی ہندہ کو کسی طریقہ سے میکے سے لے گیاوہ اس کے پاس ہے۔ لہذا شریعت مطہرہ سے زید کے لئے کیا حکم صادر ہوتا ہے؟ مدلل جواب دے کر مشکور فرمائیں! لمستفتى : بشیر الدین محله با قر گنج ، بریلی
الجواب اگر یہ واقعہ ہے جو درج سوال ہوا تو تین طلاقیں ہندہ پر واقع ہو گئیں اور وہ زید پر ایسی حرام ہوگئی کہ بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد جماع ہو کر اسے جب تک طلاق نہ ہو جائے اور عدت نہ گزر جائے ، زید کو اس سے نکاح حرام قطعی ہے۔ ہندہ پر لازم ہے کہ عدت زید کے یہاں گزارے اور زید سے پردہ کرے۔ زید اگر اسے بیوی کی طرح رکھے ہوئے ہے تو سخت گناہگار ہے۔ اور دونوں پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ رصفر المظفر ۱۴۰۶ھ