گواہان کی موجودگی میں تین طلاقوں کا وقوع اور حلالہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ۱۹ صفر المظفر ۱۴۰۱ھ زید عبدالستار عبد الغفار چودھری اپنی منکوحہ مسماۃ سلمہ بی بنت شیخ احمد صاحب ( میونسپلٹی چال نمبر ۱۱، جھوپڑا نمبر ۱۰ ، ٹراشرٹ کیمپ بھائی کلہ ٹینک پکھاری روڈ بمبئی (۱۱) کو طلاق مغلظہ کئی کئی دفعہ گواہوں کی موجودگی میں دے چکا ہے۔ اور شراب خور و جواری ہے۔گھر کی اشیائے لباس حتی کہ زنانہ کپڑا تک چوری سے فروخت کر دیتا ہے اور مار پیٹ چھری چاقو سے کر کے لڑکی کو پاگل تک کر دیا ہے۔ ہم گواہان مذکورہ تصدیق کرتے ہیں کہ یہ طلاق مغلظہ دے چکا ہے۔ شرعی جواب دیں کہ طلاق مغلظہ ہوگئی کہ نہیں ۔ فقط ! گواہ: (۱) محمد عمر ۔ (۲) محمد تقی ۔ (۳) اختر حسین صاحب۔ المستلقیہ اسلمہ بی بنت شیخ احمد بھی
اگر یہ واقعہ ہے کہ وہ شخص اپنی بیوی کو تین بار یا زائد طلاقیں دے چکا ہے تو اس پر اس کی بیوی حرام ہو گئی۔ اب بے حلالہ اسے بھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزارے، پھر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہوجائے تو عدت گزار کر چاہے تو پہلے شوہر سے نکاح کرے۔ اور اگر گواہان مذکور با شرع ہیں تو طلاقیں ثابت ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله