تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کی ممانعت کا بیان
ہمدردان فریقین نے فتاوی طلب کئے ، دہلی لکھنو ، دیوبند، بریلی، چاروں فتاویٰ سے طلاق درست ہوئی۔ کچھ عرصہ کے بعد فریقین کسی مجبوری سے آپس میں ایک ہوئے جس سے اولاد کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دونوں علیحدہ ہوئے اور زید نے اپنے احوال حلفیہ ایک ہونے کے اعلیٰ حضرت کے دارالافتاء میں بیان کیا اور گناہ سے بچنے کا راستہ بذریعہ فتوی طلب کیا ، جواب میں سائل کو تو یہ علی الاعلان کا حکم دار الافتاء سے ملا جس پر زید نے مسجد صوفی ٹولہ میں علی الاعلان تو بہ کی۔ بعد اس کے زید کی بیوی تین بچوں سمیت اب پھر حاضر ہوئی ، معافی مانگنے لگی، انتہائی پریشانی اور بچوں کی پرورش کے خیال سے ہم اہل محلہ کا رمیڈ نگر متصل جیا پور کا اتفاق ہوا کہ دونوں کو پھر ایک کر دیا جائے۔ لہذا اس کی کیا صورت روشنی میں قرآن وحدیث کی نکلتی ہے؟ مطلع کیا جائے ۔ عین عنایت ہوگی!
المسطقی : اہل محلہ، کارمیڈ نگر متصل جیا پور ، شہر کہند، بریلی جب تک دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد جماع ہو کر طلاق نہ ہو جائے اور عدت نہ گزر جائے، عورت اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی۔ تو عورت کو بغیر اس شرط کے پہلے شوہر سے نکاح حرام ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۴ / جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ