تحریری طلاق نامہ پر دستخط اور طلاق رجعی کے وقوع کا حکم
ہوں ، میری شادی شفاعت علی ابن لیاقت علی موضوع احمد پور رونی پر گنہ تحصیل قنوج ضلع فرخ آباد کے ساتھ بتاریخ ۲۷/جون ۱۹۷۸ء کو ہوئی تھی ۔ کسی ان بن وفتنہ و فساد ہونے کی غرض سے ناراضگی ہوگئی تو میں نے خوشی سے طلاق لے لی ہے بلا دباؤ کے و آزاد مرضی سے اور میرا جو کچھ جہیز وغیر و مہر تھا، پالیا۔ ہمارے وان کے درمیان کچھ لین دین باقی نہ رہا۔ اگر میں قانونی کارروائی کروں تو عدالت دیوان سے حرجہ وخرچہ کا ذمہ دار کیا جاؤں، یہ طلاق نامہ لکھ دیا کہ سند رہے، وقت ضرورت پر کام آوے تو کیا ان الفاظ سے طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ اور زید کا کہنا ہے کہ ہم سے کسی نے نہیں کہا کہ تم طلاق دے دو اور نہ میں اپنی زبان سے کچھ کہا ہوں اور لوگوں نے ہم سے دستخط کروالیا۔ اور اب زید چاہتا ہے کہ اس کو رکھوں ۔ لہذا از روئے شرع جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی بنفش مد لیاقت علی، موضوع احمد پور ، رونی ضلع فرخ آباد
الجواب: صورت مسئولہ میں زید نے اگر طلاقنامہ کے مضمون پر مطلع ہو کر یا کم از کم طلاق نامہ سمجھ کر اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے پر جبر و اکراہ شرعی واقع نہ ہو تو زید کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے، جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دومرد عادل متقی کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ اور رجعت کا حکم جب ہے کہ پہلے دو طلاقیں نہ دی ہوں ورنہ رجعت نہیں ہوسکتی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۷ رصفر المظفر ۱۴۰۱ھ