حالت حمل میں تین طلاق مغلظہ کے بعد نکاح کے لیے حلالہ کی ضرورت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ : ۲۹ رشوال المکرم ۱۴۰۴ھ زید نے ہندو کو تین طلاق مغلتقہ دی، واضح ہو کہ اس وقت ہندہ تفر یا پانچ ماہ کی حاملہ تھی ، پنچایت کی رو سے اخراجات و مہر بھی ادا کر دیا۔ بعد ازاں وقت مقررہ پر لڑ کی تولد ہوئی جس کی عمر اب دو ماہ کچھ ایام ہیں۔ اب زید و ہندہ راضی ہیں کہ ہم دونون ازدواجی زندگی گزاریں۔ از روئے شرع کیا حکم نافذ ہوتا ہے؟ جواب مرحمت فرمایا جائے اور شکریہ کا موقع مرحمت فرمایا جائے۔ (نوٹ) مہر ادا کرنا واخراجات کا فیصلہ دینا ایام حمل میں بھی طے پایا۔ اور اسی عرصہ میں دونوں راضی بھی ہو گئے ۔
الجواب: زید نے اگر تین طلاقیں ہندہ کو دے دی ہیں تو بے حلالہ زید کو ہندہ سے نکاح حلال نہیں۔ ہندہ زید کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو شرط یہ ہے کہ دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع طلاق دے دے اور ہندہ عدت کے بعد زید سے نکاح کر لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی