کسی دوسرے شخص کی طرف سے بھیجے گئے جعلی طلاق نامہ کا حکم
کسی دوسرے نے طلاق نامہ لکھ کر دوسرے کی بیوی کو بھیج دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی طرف سے کسی شخص نے دشمنی میں ایک خط ہندی زبان میں لفافہ میں بند طلاقنامہ کی شکل میں لکھ کر لکھنو سے زید کی بیوی ہندہ کے نام زید کے گھر کے ہی پتہ پر بریلی بھیجا، ہندہ نے خط پڑھ کر اپنی ساس وغیرہ کو سنایا کہ محمد ولی نے لکھنو سے طلاقنامہ لکھ کر بھیجا ہے۔ میں اب میکے جارہی ہوں۔ جب زید کو اس خط کا علم ( جو ہندی زبان میں طلاق نامہ کی شکل میں ہندہ کو ملا تھا ) ہوا تو زید فوراً لکھنؤ سے بریلی آیا اور اپنے گھر والوں اور ہندہ کے ماں باپ سے اور ہندہ سے کہا کہ وہ خط میرا بھیجا ہوا نہیں ہے۔ اور نہ ہی میں
اگر یہ واقعہ ہے جو درج سوال ہوا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم مفتی کا کام اظہار حکم شرع ہے نہ کہ از خود کوئی حکم پیدا کرنا حکم اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا ہے، جھوٹ بولنے سے حرامِ خدا حلال نہ ہوگا بلکہ دروغلوئی سے وبال بڑھے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۷/ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ