غصہ میں تین طلاق دینے کے بعد اب میاں بیوی راضی ہیں تو کیا کریں؟
سوال
جناب قبله معظم مفتی صاحب! السلام علیکم عرض خدمت که للوسوداگر اپنی سسرال بیوی کو لوانے گیا، سسرال میں بیوی سے اور اس کے ماں باپ سے جھگڑا ہوا اور بیوی کو نہیں بھیجا۔ گھر آکر غصہ میں للوسوداگر نے خط میں طلاق تین بار لکھ کر بھیج دی- اب وہ میاں بیوی راضی ہیں، اور زوجیت رکھنا چاہتے ہیں ۔ کیا درست ہے؟ مہربانی فرما کر واپسی کارڈ کے ذریعہ تحریر فرمائیے گا۔ فقط والسلام ! آپ کا زیر قدم : محمد عبد الشکور ڈاکخانہ ٹوری ملخ پور ضلع جھانسی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: واقعہ اگر یہ ہے کہ شوہر نے تین طلاقیں دے دیں ہیں تو بے حلالہ عورت اس کو حرام ہے۔ عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے۔ وہ بعد جماع جب طلاق دے دے اور عدت گزر جائے تو پہلے سے نکاح کر لے۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۹ رذی قعده ۱۴۰۰ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۵۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
طلاق دے کر ڈرانے کا عذر پیش کرنے اور گواہوں کی بنیاد پر تین طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
دو طلاق رجعی کے بعد رجعت کا مسنون طریقہ
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے بعد دوبارہ نکاح کے لئے حلالہ کی ضرورت اور شوہر کے بھائی سے حلالہ کا حکم
باب: کتاب الطلاق
دل میں طلاق کی نیت کرنے اور معلق طلاق کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
ظالم شوہر سے چھٹکارے کا کیا راستہ ہے؟
باب: کتاب الطلاق