طلاق دے کر ڈرانے کا عذر پیش کرنے اور گواہوں کی بنیاد پر تین طلاق کا حکم
طلاق دے کر کہتا ہے کہ ڈرانے کے لئے کہا تھا ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید اور ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا۔ زید گھر سے نکلتے وقت ”طلاق طلاق کہتا ہوا نکلا۔ زید کا کہنا ہے کہ میں نے ڈرانے کے لئے دوبار طلاق کا لفظ کہا۔ اور ہندہ کہتی ہے کہ میں نے بھی دو بار طلاق طلاق کا لفظ سنا۔ اور محلے کی دو عورتیں کہتی ہیں کہ زید کو طلاق ، طلاق ، طلاق ، طلاق کا لفظ کہتے ہوئے چار بار سنا ہے۔ لہذا عند الشرع جو فیصلہ ہو، قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا ! سائل: محمد فضل حسین محله ملوکپور، بریلی شریف (یوپی) ۲۶ ؍رجب المرجب ۱۳۹۷ھ
الجواب: اگر یہ بات سچی ہے کہ زید نے چار مرتبہ طلاق ، طلاق ، طلاق ، طلاق کہا، تو ہندہ پر تین طلاقیں ہو گئیں۔ اور وہ زید پر حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ جب عدت گزر جائے، عورت دوسرے سے نکاح صحیح کر کے ہمبستری کرے، وہ بعد جماع طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت بعد عدت زید سے نکاح کرلے۔ قال تعالى : (على تَنْكِحَ زَوْجاً غيرَة) () وقال نبينا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ،، لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) مگر زید (شوہر) جبکہ منکر ہے تو تین طلاق کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد ، دو عورتیں متقی پر ہیز گار کی شہادت پر موقوف ہے۔ زید پر لازم ہے کہ سچی سچی بات کہے، اللہ سے ڈرے اور اس کے حرام کو حرام سمجھے ، جھوٹ بولنے سے حرام حلال نہ ہوگا بلکہ دوہر او بال ہوگا۔ اور اگر واقعہ یہی ہے کہ زید نے دو ہی طلاقیں دی ہیں تو یہ عورتیں چار کا غلط دعویٰ کر رہی ہیں، ہلزمہ ہیں ، ان پر تو بہ لازم ہے اور ماتحت حکم یہ ہے کہ ہندہ پر دور جعی طلاقیں پڑیں۔ عدت کے اندر شوہر کو اختیار ہے کہ اسے اپنے نکاح میں لوٹائے ، رجعت کرے۔ اور رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے زید کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے نکاح میں واپس لیا۔ یہ حکم جب ہے کہ پہلے ایک نہ دے چکا ہو، ورنہ تین پڑ کر حرمت مغلظہ ثابت ہوگی اور بعد حلالہ و بعد عدت بہ رضائے ہندہ بہ مہر جدید نکاح کرسکتا ہے۔ ایک دفعہ میں ایک سے زیادہ طلاق دینا منع ہے۔ اس سے تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ / رجب المرجب ۱۳۹۷ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی