تحریری طلاق کا حکم اور گواہوں یا بیوی کی موجودگی کی شرعی حیثیت
۱۱؍رجب المرجب ۱۴۰۲ھ لکھ کر طلاق دی زبان سے کچھ نہ کہا تو کیا حکم ہے؟ وقوع طلاق کے لئے بیوی کا موجود ہونا ضروری نہیں ! جناب عالی ! السلام علیکم بعد سلام کے عرض خدمت یہ ہے کہ مہربانی فرما کر نیچے لکھے سوالات کا جواب قرآن وحدیث کی رو سے دینے کی تکلیف گوارہ فرما ئیں۔ میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔ (1) عمرو اپنی بیوی کو طلاق کا اسٹامپ لکھ کر ) قانونی اعتبار سے طلاق دے دیتا ہے مگر دل و زبان سے طلاق کا لفظ ادا نہیں کرتا۔ نہ دل سے طلاق دینا چاہتا ہے،مگر قانونی اعتبار سے طلاق نامہ لکھ دیتا ہے تو کیا ایسی حالت میں طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ (۲) کیا طلاق کے وقت دو گواہوں کا وبیوی کا موجود ہونا ضروری ہے؟ کیا طلاق کے اسٹامپ پر دو گواہوں اور بیوی کے دستخطوں کا ہونا ضروری ہے؟ شریعت کی رو سے جواب جلد از جلد ارسال کرنے کی زحمت فرمائیں ۔ شکریہ۔ والسلام ، فقط ! خاکسار غلام مصطفی ، بلاری
الجواب: جب اس نے بے جبر و اکراہ طلاق نامہ لکھ دیا تو جیسی اور جتنی طلاقیں لکھیں، واقع ہو گئیں۔ اگر تین طلاقیں لکھی ہیں تو عورت بغیر حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ اور اگر ایک یا دو طلاقیں لکھی ہیں تو عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے۔ اور بعد عدت عورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ اور جب شوہر خود مقر ہے تو گواہوں کا ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی بیوی کا موجود ہونا ضروری۔ اور یہ عذر شحض نا معتبر ہے کہ دل و زبان سے طلاق کا لفظ ادا نہیں کیا، نہ دل سے طلاق دینا چاہتا ہے۔ القلم احد اللسانين " (1) مسلم بھی ایک زبان ہے! جو کچھ لکھے گا، اس کا اعتبار ہوگا۔ مذاق کے طور پر الفاظ طلاق کہے، جب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہوگئی۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، ج ۹، ص ۵۸۷ ، دار الكتب العلمية بيروت