تین طلاق کے بعد دوبارہ نکاح کے لئے حلالہ کی ضرورت اور شوہر کے بھائی سے حلالہ کا حکم
شوہر کے بھائی سے حلالہ درست ہے یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ : ۱۴ شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ مسمی زید نے اپنی منکوحہ کو اپنی سسرال والوں سے کسی ضدی بات پر تین مرتبہ اپنی زبان سے طلاق دے دی۔ مسمی زید کی منکوحہ اپنے شوہر کے یہاں پر موجود ہے۔ اور اپنی زبان سے رو برو پہچان کے گھر سے باہر جانے کے لئے اقرار نہیں کر رہی ہے۔ اور اپنی عدت اپنے شوہر کے یہاں گزار رہی ہے ۔ شوہر کو اپنی منکوحہ سے کسی قسم کا واسطہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ دوسرے مکان میں مسمی زید اپنا کھانا پینا سونا وغیرہ کر رہا ہے۔ کبھی کسی خاص ضرورت پر وہ پکار کر اس مکان میں جاتا ہے۔ مسمی زید کی ماں اور بہن وغیرہ اسی مکان میں رہتے ہیں ۔ اور کسی قسم کے کام وغیرہ کو اس سے کہتا سنتا نہیں ہے۔ مسمی زید و اس کی منکوحہ اور اس کے گھر والے باہم ملنا چاہتے ہیں اور آپس میں رو برو پنچان کے رضامندی ظاہر کر رہے ہیں ایسی صورت میں شرع شریف سے کیا حکم ہے؟ آیا اس مسمی زید سے دوبارہ نکاح، عدت گزارنے کے بعد کرا دیا جائے یا حلالہ واجب ہے؟ جواب سے مطلع فرما کر مشکور فرما یا جاوے۔ فقط ، والسلام ۔ بینوا توجروا (نوٹ ) اگر حلالہ واجب ہے تو اس صورت میں مسمی زیدا اپنے حقیقی بھائی کے ساتھ کر سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب سے مطلع فرما یا جاوے۔ المستفتی محمد یعقوب، موضع گونجھ ڈاکخانہ مھلو یا ضلع پیلی بھیت
الجواب: تینوں طلاقیں ہو گئیں اور حلالہ کے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہا۔ زید کا حقیقی بھائی اگر اس کی منکوحہ کا رضاعی بھائی نہیں ہے تو اس سے بعد عدت نکاح ہو سکتا ہے۔ پھر بعد جماع جب چاہے طلاق دے دے اور عدت گزر جائے تو زید کو اس سے نکاح حلال ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۹ رذی الحجہ ۱۴۰۶ھ