ظالم شوہر سے چھٹکارے کا کیا راستہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی لڑکی کی شادی آج سے سات سال قبل ہوئی تھی اور ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں رہی ۔ اور لڑکے کی نانی وماں وہ بہن میری لڑکی کو برابر مارتی و پیٹتی و گھر سے نکالا کرتی ہیں۔ اس لئے گھر سے وہ لڑکی اپنے میکہ چلی آئی ہے۔ اسی طرح اس کو مار پیٹ کر اور طلاق نہ دے کر اس کی زندگی برباد کر دیں گے اور اس کو ختم کر دیں گے۔ زید ولڑکی اور گاؤں کے سبھی لوگ چاہتے ہیں کہ اس کے گھر نہ جائے اس لئے ان لوگوں سے چھٹکارا پانے کا کون ساراستہ ہے ؟ حدیث و قرآن کی روشنی میں جواب تحریر کریں۔ التمس: عبدالسميع موضع چاند پالی ، ڈاکخانہ کشن پور، مصر ولی ، ضلع سیوان
الجواب: جس صورت بنے ،شوہر سے طلاق حاصل کی جائے ، خواہ بفہمائش خواہ مہر معاف کر کے ، خواہ کچھ دے کر خواہ حاکم کے جبر سے زبانی طلاق کہلوائیں۔ پھر جب عدت گزر جائے تو عورت مختار ہے۔ بغیر طلاق وانقضائے عدت کوئی چارہ کار نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی