بیوی کی عدم موجودگی میں طلاق کے الفاظ کہنے کا حکم
بیوی کی عدم موجودگی میں کہا ”میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں، طلاق ، طلاق ، طلاق کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: کسی شخص نے اپنے بھائی سے جھگڑتے ہوئے لوگوں کے سامنے بیوی کی غیر حاضری میں یہ کہا کہ ”میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ، طلاق ، طلاق ، طلاق، تین مرتبہ کہا بعض نے کہا کہ چار مرتبہ بولا۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ ان کی بیوی ماں کے گھر تھی ، طلاق واقع ہوئی تو حکم شرع کیا ہے؟ یا لوگوں کے سامنے یہ کہا کہ : اے لوگو، اگر تم لوگ کہتے تو میں طلاق دیتا ہوں ، طلاق ، طلاق ، طلاق ۔ بعض نے کہا کہ چار مرتبہ بولا۔ دونوں میں کچھ فرق ہے؟ تحریر کریں۔ فقط ! المستفتی: غلام حیدر کامل موضع ٹنگاری بندر، تعلقہ جمبوسر ضلع بھروچ (گجرات)
الجواب: پہلی صورت میں تینوں طلاقیں فی الحال واقع ہو گئیں اور بیوی شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کے بعد چاہے تو پہلے سے نکاح کر لے۔ قال عز وجل: (حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) () وقال علیہ السلام : لاحتى تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک (۲) در مختار میں ہے: وو ،، وقع الكل، وان نوى التأكيد، دين (۳) اور دوسری صورت میں لوگوں نے اگر اس سے اس کی بیوی کی طلاق مانگی ، طلاق دیتا ہوں“ سے ایک رجعی واقع ہوئی۔ پھر "طلاق ، طلاق ، طلاق، مشتمل ماسبق سے جدا کہا۔ اس سے بہر حال تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ الجواب صحیح ۔ اللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ