شوہر کا طلاق دے کر مکر جانا اور گواہ نہ ہونے کی صورت میں شرعی حکم
طلاق دے کر اب انکار کرتا ہے کوئی گواہ بھی نہیں تو کیا کیا جائے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: مرد اور عورت میں جھگڑا ہوا جس میں مرد نے اپنی عورت کو طلاق دے دی۔ عورت اپنے ماں باپ کے گھر چلی آئی تو مرد نے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو طلاق نہیں دی۔ اور عورت قسم کھانے کو تیار ہے، میرے آدمی نے مجھ کو طلاق دے دی ہے اور مرد قسم کھانے کو تیار نہیں تھا صرف ایسے ہی کہتا ہے کہ طلاق نہیں دی ہے۔ جبکہ فتویٰ منگایا گیا تو اس میں لکھا ہے کہ اگر مرد قسم کھائے تو مرد کی بات مانی جائے گی جب فتویٰ دیکھا تو اب قسم کھانے کو تیار ہے۔ اور جب فتویٰ نہیں آیا تھا تو قسم کھانے کو تیار نہیں تھا۔ اب
الجواب: شوہر جبکہ طلاق کا منکر ہے اور عورت دعوی طلاق پر گواہان شرعی نہیں رکھتی تو طلاق ثابت نہیں البتہ عورت اگر تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے، بلکہ اسے لازم ہے کہ شوہر سے دور رہے۔ در مختار میں ہے: ” فی البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلک اصرت علیه ام اكذبت نفسها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی