طلاق کے مطالبہ اور نباہ نہ ہونے کی صورت میں شرعی رہنمائی
ساتھ رہ کر دولہا واپس اپنی ملازمت پر چلا گیا۔ ایک سال کے بعد دوبارہ دولہا ۲۷ / روز اپنی زوجہ کے ساتھ رہ کر اپنی ملازمت پر واپس سعودیہ عربیہ چلا گیا ایک ہفتہ دولہن نے اپنے میکے جانے کا اصرار کیا۔ اور کہا کہ مجھے اپنے بھائی کے گھر بھیج دو ورنہ زہر کھالوں گی ۔ مجھے طلاق دے کر میرے بھائی کے گھر بھیج دو۔ اس کے بھائی نے دولہا کے گھر پر رجسٹری کے ذریعہ سعودیہ عربیہ سے خط لکھا کہ اگر آپ لوگ میری بہن کو طلاق نہیں دو گے تو ہم کورٹ کے ذریعہ طلاق حاصل کریں گے۔ علماے حق اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ آیا طلاق دینی چاہئے یا نہیں؟ اگر طلاق دیں تو مہر کی رقم وجیز کا سامان دینا ضروری ہے یا نہیں ؟ مطلع فرمائیں!
الجواب: نباہ کی کوشش کریں تو بہتر ہے اور طلاق دینا جائز اور اگر بھلائی کے ساتھ نباہ کی امید نہیں تو طلاق دینا مناسب بلکہ ضرور۔ قال تعالیٰ: { فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية } () اللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ ؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ