شوہر نے تین بار کہا: ”طلاق دی تینوں پڑگئیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بیوی سے جھگڑا ہو گیا ہے۔ زید نے چلا کر ۳ بار کہا کہ : میں نے تم کو طلاق دی۔ لہذا زید کے رشتہ دار، عزیزوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہتے تو زید نے جواب دیا کہ میں نے جب نہیں کہا تو اب کہتا ہوں کہ: ”طلاق دی، طلاق دی ، طلاق دی۔ لڑکی اپنے والدین کے یہاں جانے کو تیار ہوئی لیکن ساس سسر اور عزیزوں نے روک لیا۔ لڑکی دوماہ کے بعد اپنے والدین کے گھر آئی تو لڑکی نے اپنی والدہ کو بتایا کہ زید مجھ کو طلاق دے چکا ہے۔ لہذا اب میں نہیں جاؤں گی ۔ لڑکی دو تین ماہ کے حمل سے ہے۔ ایسی صورت میں شرع کا کیا حکم ہے؟ فقط ! المستفتی : مزمل حسین خاں محلہ رو پہلی ٹولہ، پرانہ شہر، بریلی
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ شوہر نے تین بار کہا: ”طلاق دی۔الخ ، تو اس کی عورت پر تین طلاقیں ہو گئیں اور وہ شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ جماع کے بعد اسے طلاق دے دے یا مرجائے یا خدا نہ کرے وہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کر سکے گی۔ قال تعالى : {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَةً} () حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ قال تعالیٰ: اوَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ) ( الله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۳ / رجب المرجب ۱۳۹۸ھ