نشے میں تین بار طلاق دی تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید اپنی سسرال آیا اور اپنی بیوی سے ہیں روپیہ شراب پینے کو مانگا، بیوی نے دینے سے آنا کانی کی۔ اس پر زید نے اس کو ۳ر بار کہا: میں نے تجھ کو طلاق دی۔ اس وقت لڑکی کی ماں و بھاوج تھیں ۔ لڑکی ر ماہ کی حاملہ ہے اور طلاق دئے ہوئے ایک ماہ ہوا۔ اب وہ لڑکی کو لینے آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے، اگر دی ہوگی تو نشے میں دی ہوگی۔ اس بارے میں فتویٰ دیجئے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ سائله: شفیقہ (والدہ )، احاطہ ڈپٹی خیر الدین، بریلی
الجواب: فی الواقع زید نے اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اگر چہ نشہ میں دی ہوں ، تو بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہو گی ۔ مگر زید جبکہ منکر ہے تو طلاق کا ثبوت محض عورت کے بیان سے نہ ہوگا البتہ عورت جبکہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو اپنے اوپر قابودے۔ در مختار میں ہے : ” فی البزازیة قالت طلقنى ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلک اصرت علیه ام اكذبت نفسها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ / جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ