طلاق کا اختیار شوہر کے پاس ہے اور بلا ثبوت طلاق دوسرا نکاح باطل ہے
طلاق دی۔ مگر کوئی دوسرا اس کا گواہ نہیں جو کہہ دے، اس گاؤں کے لوگ اس لڑکے کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ فقط والسلام المستفتی: ڈاکٹر حافظ محمد ظفر عالم ظفر عثمانی مقام سلطان پور بیٹی پوسٹ آفس خاص تحصیل باز پور ضلع مینی سال
الجواب: طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ باپ خواہ کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ کسی کی بیوی کو طلاق دے دے قال تعالى : { بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاح } وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم: الطلاق لمن اخذ بالساق لہذا جبکہ طلاق یا اقرار طلاق ثابت نہ ہوا تو وہ کاغذ بے اثر اور دوسرا نکاح حرام قطعی و باطل محض جبکہ ناکح کو اس عورت کا منکوحہ ہونا معلوم ہو اور جتنی قربت ہوئی خالص زنا۔ اور اگر اسے علم نہ تھا تو نکاح فاسد ۔ مگر بعد علم جدائی فرض اور تاخیر گناہ۔ اور عورت کا دعویٰ نامسموع مگر جبکہ تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو اپنے پر قابودے۔ در مختار میں ہے: ” فی البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلک اصرت علیه ام اکذبت نفسها واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ محرم الحرام ۱۴۰۱ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم بها المصطفی قادری