حالت حمل میں تین طلاقیں دینے کا حکم اور عدت کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو یہ کہا کہ : ”میں نے تجھے طلاق دی، دی، دی، دی، دی، دی“ چند مرتبہ کہا اور ہندہ کے پیٹ میں چار ماہ کا بچہ ہے۔ یعنی چار ماہ کا حمل ہے۔ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اور اس حمل کو کیا کرنا ہوگا ؟ المستفتی: محمد چھوٹے محلہ جیا پور، پرانه شهر، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: حمل کی حالت میں طلاق دینا گناہ ہے مگر طلاق دینے سے ہو جاتی ہے۔ صورت مسئولہ میں تین طلاقیں ہو گئیں اور عورت شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ جب بعد جماع طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کے بعد پہلے سے نکاح کرلے۔ صورت مسئولہ میں عدت وضع حمل ہے۔ { وَ أُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } (1) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) سورة الطلاق : ۴