حمل کی حالت میں طلاق کا حکم اور بیوی کی بدچلنی پر شرعی رہنمائی
شب ۱۴ ؍ ربیع الاول ۰۴ حمل کی حالت میں طلاق منع ہے مگر دے گا تو ہو جائے گی ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (۱) ہندہ کی دوشادی پہلے ہو چکی ہے، دونوں جگہ سے طلاق ہو چکی ہے۔ پھر ہندہ کی تیسری شادی خالد سے ہوئی ہے۔ ہندہ شوہر کے رہتے ہوئے زنا کی مرتکب ہوتی رہتی ہے اب خالد ایسی حالت میں طلاق دینا چاہتا ہے اور ہندہ حمل سے ہے اس حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲) خالد ہندہ کے باپ کو برابر یہ کہتے ہوئے چلے آئے ہیں کہ آپ کی لڑکی بدچلن ہے۔ آپ اپنی لڑکی کو نصیحت کریں ، مگر وہ کچھ غور نہیں کرتے اور بدچلن ہونے کے باوجودا اپنی لڑکی کی حمایت کر رہے ہیں ۔اب اس حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۳) ہندہ کے باپ کے سامنے یہ باتیں رکھی گئیں کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنے لڑکے کو جو فعل بد کے مرتکب ہو چکے تھے، تو سو کوڑے لگوائے تھے اور قرآن مجید کا بھی یہی حکم ہے: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا کے مصداق سزا دئے تھے۔ تو ہندہ کے باپ کہنے لگے کہ یہ
(1) حمل کی حالت میں طلاق منع ہے اگر چہ طلاق دینے سے واقع ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سخت گنہگار اشد بد کار دیوث مستحق لعنت مستوجب نار ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ” لعن الله الديوث و الديوثة (1) اللہ نے دیوث اور دیونہ پر لعنت فرمائی۔ اس پر تو بہ لا زم اور اپنی لڑکی کو باز رکھنا فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہندہ کے باپ نے فی الواقع اگر یہ کلمہ ملعونہ کہ یہ باتیں پرانی ہوگئیں“ کہا تو خارج از اسلام ہو گیا کہ یہ صراحۃ حکم شرعی کی تو ہین ہے اور تو ہین حکم شرع کفر ہے۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: من أهان الشريعة او المسائل التي لا بد منها كفر “(۲) تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله