بیٹے کے گھر آنے پر پانچ سو طلاق کی معلق طلاق کا حکم
اگر تمہارا لڑکا میرے گھر میں آیا تو تم پر پانچ سو طلاق کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: زید نے اپنے بیٹے سے جھگڑتے ہوئے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا: ”سن لے اگر تور بیٹا مور گھروت ویلکو تو تور پور پانچ سوطلاق“۔ (سن لواگر تمہارا لڑکا میرے گھر میں آیا تو تم پر پانچ سوطلاق)۔ اب زید چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا گھر میں آئے۔ اس کے لئے کون کی صورت اپنانی ہوگی جس سے اس کا بیٹا گھر میں آئے اور طلاق مغلظہ واقع نہ ہو؟ مدلل دلیل کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں ۔ کرم ہو گا !
الجواب: لمستفتی محمد سلیم الدین رضوی سفیارہ ہاٹ پوسٹ باکسی بازار، پورنیہ (بہار) ۱۳ جمادی الآخر ۱۳۹۶ھ صورت مسئولہ میں اگر شرط پائی جائے گی تو اس کی منکوحہ پر تین طلاقیں مغلظہ واقع ہو جائیں گی اور وہ اس پر ایسی حرام ہو جائے گی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ قال تعالى : (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) (1) (1) سورة البقرة : ٢٣٠ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد ہمبستری طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے ، پھر وہ عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ حدیث میں ہے: ”لا حتی تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک) اور بے حلالہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ / جمادی الآخر ۱۳۹۶ھ