شوہر کا دوسرے لوگوں کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کا اقرار کرنے کا حکم
زید کہیں سے غصہ میں آیا اور آتے ہی کسی دوسرے آدمی سے کہتا ہے کہ میں بیوی کو طلاق دے آیا ہوں اس کے بعد پھر دوسرے شخص کے پاس گیا اور اس سے بھی کہا کہ اگر ہماری بیوی نے میری لڑکی کی شادی ہماری مرضی کے خلاف کیا تو میں طلاق دے دوں گا۔ پھر تیسری جگہ گیا اور پھر زید نے کہا کسی آدمی سے کہ میں اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دے کر آیا ہوں اور تین مرتبہ دے کر آیا ہوں اور اس کا نام ہندہ لے کر طلاق دے کر آیا ہوں۔ پھر اس کی بیوی ہندہ سے دوسرے آدمی یعنی محمد میاں نے جا کر پوچھا کہ واقعی تمہارے شوہر نے تمہیں طلاق دی ہے تو وہ عورت کہتی ہے کہ نہیں مجھے طلاق نہیں دیا ہے اس کے بعد چند آدمی جمع ہوئے اور زید کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کی ہے تو زید نے کہا کہ میں ایسی بات نہیں بولا ہوں اور زید نے مجمع عام میں اقرار کیا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ اگر میری مرضی کے خلاف شادی کیا تو طلاق دے دوں گا اور جہاں لڑکی کی ماں منسوب طے کر کے شادی لڑکی کی کر دی ہے ، بہر حال پھر زید نے مجمع عام میں لوگوں سے معافی بھی مانگ لی۔ اب شریعت مطہرہ سے صاف صاف لفظوں میں حدیث و قرآن سے مدلل ثبوت پیش کریں، مہربانی ہوگی
الجواب: ثبوت طلاق کے لئے دو مرد عادل یا ایک مرد، دو عورت عادل کا بیان ضروری ہے۔ بغیر اس کے طلاق کا ثبوت نہ ہوگا۔ وہ لوگ جن سے اس نے کہا کہ میں اپنی عورت کو طلاق دے کر آیا ہوں، اگر عدول ہیں تو طلاق ثابت ہوگئی اور اگر مرد عادل کے سامنے تین مرتبہ طلاق دینے کا اقرار کیا ہے تو تین طلاقیں ثابت ہوں گی اور عورت اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ ہمبستری کر کے طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر یہ عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ حدیث میں ہے: لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک) رد المحتار میں ہے: أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع (۲) طلاق کا ثابت ہونا اور بات ہے اور واقعہ اس کا واقع ہونا اور ہے۔ اگر اس نے واقعی طلاق دے دی ہے تو بہانے نہ بنائے کہ جھوٹ بولنے سے حرام حلال نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ رشوال المکرم ۱۳۹۱ھ