تین بار طلاق دینے کے حکم کے متعلق دریافت طلب مسئلہ
میں نے تجھ کو طلاق دی تین بار کہا تو تین ہوئیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ساس بہو میں لڑائی ہوئی تھی، اس کے بعد لڑکا اپنی دکان پر آتا ہے جس کا نام یاسین ہے۔ جب لڑکا آیا کھانا کھانے کے لئے تو اس کی والدہ نے اس سے جھوٹی سچی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ سچی باتوں پرلڑکی نے کچھ نہ کہا اور جب جھوٹی باتیں کہیں تو اس پر لڑکی نے جواب دیا کہ میں نے ایسا نہیں کہا ہے۔ اس پر لڑکے نے اپنی بیوی کو مارا، مار پیٹ کی وجہ سے آواز سن کر مالک مکان کی بیوی لڑکی کو اوپر سے نیچے لے آئی کہ لڑائی ختم ہو جائے اس پر اس کی ساس نے کہا کہ اگر یہ اس گھر میں رہے گی تو میں نہیں
الجواب: المستفتی : انورعلی رضوی نوری متعلم منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف فی الواقع اگر شخص مذکور نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد کسی سے بعد نکاح صحیح وطی کرائے وہ بعد وہلی طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت عدت کے بعد پہلے سے عقد کر لے۔ قال تعالى: (حَلَى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَة))) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) مگر ثبوت طلاق کے لئے جبکہ شوہر منکر ہو، دومرد عادل یا ایک مرد و عورت عادل درکار ہیں ۔ قال الله تعالى: (وَأَشْهِدُوا طَوَى عَدْلٍ مِنكُمْ - الآية) (۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله