بوقت ظلم شوہر کیا کچہری سے طلاق یا آزادی لی جاسکتی ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ: بیوی پر اگر شوہر ظلم کرتا ہو اور بیوی اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہتی ہو اور شوہر طلاق نہ دے تو کیا ایسی صورت میں بذریعہ کورٹ عورت اپنے کو شوہر سے آزاد کر اسکتی ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: کچہری سے آزادی شرعا کوئی چیز نہیں۔ طلاق کا حق شوہر کو ہے۔ حدیث میں ہے: "الطلاق لمن اخذ بالساق (۳) لہذا جس صورت بنے شوہر سے طلاق حاصل کی جائے۔ خواہ کچھ دے کر یا حاکم کے جبر و اکراہ سے زبانی طلاق کہلوالیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۱۶–۴۱۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مرض الموت میں طلاق کا حکم اور وراثت و مہر کا مسئلہ
باب: کتاب الطلاق
عورت کا طلاق کا دعویٰ اور شوہر کا انکار اور شرعی گواہی کا حکم
باب: کتاب الطلاق
متفرق فقہی مسائل بشمول حکم طلاق، ایصال ثواب، قربانی اور تجارت میں منافع کی حد
باب: کتاب الطلاق
تین بار طلاق دینے کے حکم کے متعلق دریافت طلب مسئلہ
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق، اولاد پر باپ کا نفقہ اور لاسٹک والی چڈی استعمال کرنے کا حکم
باب: کتاب الطلاق