عورت کا طلاق کا دعویٰ اور شوہر کا انکار اور شرعی گواہی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع شریف متین ذیل مسئلہ میں کہ : زید اور اس کی منکوحہ بیوی ہندہ میں نا اتفاقی ہو گئی اسی نا اتفاقی کی بنا پر زید نے ہندہ کے والد کو بلا کر ان کے ساتھ رخصت کر دیا اور کہا کہ اب میں تمہاری لڑکی کو نہیں رکھوں گا۔ ہندہ اپنے والدین کے یہاں ڈیڑھ سال تک رہی ڈیڑھ سال کے بعد زید دو چار آدمیوں کو لے کر ہندہ کو بلانے پہنچا تو ہندہ کے والدین وغیرہ نے کہا کہ زید نے تو طلاق دے دی ہے۔ ہندہ سے معلوم کیا گیا تو اس نے بھی کہا کہ ہاں زید نے مجھ کو طلاق دے دی ہے۔ ہندہ نے کچھ گواہ بھی پیش کئے تو انہوں نے بھی کہا کہ ہاں ہمارے سامنے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ گواہ لوگ مسجد میں قسم کھانے کو تیار ہیں۔ زیداب منکر ہو رہا ہے کہ میں نے تو طلاق نہیں دیا ہے۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید طلاق سے انکار کر رہا ہے اور گواہ لوگ مع ہندہ بحلف کہتے ہیں کہ طلاق دیدی ہے۔ لہذا ایسی صورت میں ہندہ کا زید کے ساتھ رہنا درست ہے یا نہیں ؟ شرع شریف کے حکم سے مطلع کیا جاوے۔ فقط ۔ بینوا تو جر واعند اللہ
الجواب: صورت مسئولہ میں زید جبکہ منکر طلاق ہے تو محض ہندہ کے دعوئی سے ثبوت طلاق نہ ہوگا گواہان طلاق اگر شرعی ہیں یعنی متقی پرہیز گار معروف بہ صدق و احتیاط ہیں تو ان کی شرعی شہادت سے طلاق ثابت ہوگی جیسی اور جتنی طلاقوں کے وہ شاہد ہوں گے، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہوگا ۔ البتہ ہندہ اگر اپنے دعوئی میں سچی ہے تو اسے حکم ہے کہ وہ اپنے شوہر سے ایسی بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ اور اسے اپنے اوپر ہرگز قابو نہ دے اور اگر زید کے ساتھ رہنا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ بعد انقضائے عدت خفیہ حلالہ کرائے یعنی کسی سے نکاح صحیح کرے اور وہ بعد جماع طلاق دے دے پھر عدت گزار کر زید سے نکاح کرے۔ کذا ذکرہ فی الدر المختار ۔ اور زید پر بہ صورت دعویٰ ہندہ لازم کہ اسے طلاق دے کر چھوڑ دے کہ اس کی عدت گزر جائے کہ جب وہ تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے زید کے پاس رہنا حلال نہیں۔ اور اسے ادہر میں لڑکا نا جائز نہیں ۔ قال تعالیٰ: فَلا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ()() اور فرماتا ہے اللہ تعالیٰ: الإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية () اور اگر ہندہ نے جھوٹا دعوی کیا ہے تو وہی ظالمہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله