مرض الموت میں طلاق کا حکم اور وراثت و مہر کا مسئلہ
۱۱ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید نے اپنی بیوی سے جھگڑا کیا ساون ماہ میں اور کہا کہ : " تم اگر فلاں شخص کے یہاں جاؤ گی تو تم پر طلاق ہوگی۔ اور کچھ دن کے بعد سب لوگ اس کے یہاں جانے آنے لگے۔ زید اور اس کی بیوی کے درمیان پھر سات ماہ بعد تکرار ہوگئی۔ بیوی میکے چلی گئی جب بیوی کے بھائی نے پھر زید کے گھر پہنچایا تو زید نے جواب دیا کہ تم اس کو لے جاؤ ، ہماری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پھر ہم اس پر انصاف کریں گے کہ بار بار تکرار کیوں کرتی ہے۔ پھر اس واقعہ کے دس پندرہ دن کے اندر ہی زید کا انتقال ہو گیا۔ مسئلہ طلب یہ ہے کہ بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور بیوی کو شوہر کی جائداد ملے گی یا نہیں؟ مرتے وقت زید نے چند آدمیوں کے سامنے کہا کہ ہم نے اس کو فلاں جگہ جانے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ جائے گی تو تجھ پر طلاق ہوگی۔ اگر طلاق واقع ہو گئی تو دین مہر کی مقدار بیوی ہوگی یا نہیں؟ زید نے مرتے وقت چند آدمیوں کو بلا کر کہا کہ ہماری بیوی دین مہر کی حقدار نہیں ہے، ہم نے اس کو طلاق دے دی ہے۔
قبل از میں وہ اپنی ساری چیزیں جو دوسرے گھر میں تھیں کل چیز لے کر چلی آئی ہے۔ المستفتی: محمد صدیق عالم الجواب: ساکن مجلس پور، پورنیہ (بہار) انڈیا فی الواقع صورت مسئولہ میں جبکہ زید نے طلاق کو فلاں کے یہاں جانے پر معلق بایں الفاظ کیا تھا کہ : ” تم اگر فلاں شخص کے یہاں جاؤ گی تو تم پر طلاق ہوگی“۔ تو اس کی بیوی پر اس شرط کے موجود ہونے پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ تنویر و در مختار میں ہے: ( وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقاً)) اور طلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے اور رجعت جس طرح قول سے ہوتی ہے فعل مثلاً بوس و کنار و جماع سے بھی ہو جاتی ہے۔ لہذا بعد طلاق اثناء عدت میں اگر وہ بیوی کی طرح رہتی ہے تو رجعت آپ ہی ہوگئی اور وہ بدستور اس کی بیوی اس کے مرتے دم تک رہی ۔ لہذا مہر کے علاوہ متروکہ شوہر میں ضرور اپنا فریضہ شرعیہ کہ ربع یا شمن پائے گی اور مرض الموت میں شوہر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، ظاہر اس سے طلاق بائن کا اقرار ہے اور اگر اسے طلاق ثانی فرض بھی کریں تو واقع نہ ہوگی کہ مرض موت میں طلاق وراثت سے فرار ہے اور یہ ممنوع ۔ لہذا طلاق نامعتبر بالجملہ شوہر مذکورہ کے ترکہ میں عورت اپنا حصہ پائے گی۔ (1) (۲) وو در مختار میں ہے: يقال له الفار لفراره من ارثها فيرد عليه قصده الی تمام عدتها “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح وصواب والعجیب صحیح و مشاب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی