تین طلاق، اولاد پر باپ کا نفقہ اور لاسٹک والی چڈی استعمال کرنے کا حکم
مارتے ہوئے کہا "طلاق طلاق طلاق کیا حکم ہے؟ اولاد پر باپ کا نفقہ واجب ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ: (1) میاں بیوی کی آپس میں گھر کے سامان پر گفتگو ہو رہی تھی یہ گفتگو رفتہ رفتہ غصہ میں تبدیل ہوگئی اور شوہر نے بیوی کو مارتے ہوئے لفظ طلاق تین مرتبہ استعمال کیا: ”طلاق ، طلاق ، طلاق“۔ یہ نہیں کہا کہ دوں گا یا دی، بلکہ یہ کہا کہ آج سے تمہارا میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اب بعد میں جب غصہ ختم ہو گیا تو شوہر کہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں پتہ کہ میں نے کیا کہا ہے اور کہتا ہے کہ طلاق دینے کی میری نیت نہیں تھی ۔ براہ کرم جواب ارشاد فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ شوہر کی اس بات پر اعتبار کیا جاسکتا ہے کہ نیت نہیں تھی طلاق دینے کی؟ اگر طلاق ہوئی تو کون سی ہوئی ؟ اور اب کیا صورت نباہ کی ہے؟ (۲) باپ نے اولادکو الگ کر دیا اور الگ کرتے وقت اپنی جائیداد میں سے کچھ نہیں دیا ہے، اولاد نے الگ ہو کر اپنا کاروبار سنبھال لیا، باپ شراب پیتا ہے اور اس نے اپنا مال سب شراب پی کر خراب کردیا۔ اب اولاد سے کہتا ہے کہ تم مجھے اپنے مال میں سے آدھا حصہ دو۔ از روئے شرع اولاد کے مال میں سے باپ کا حق نکلتا ہے؟ اور ہے تو کتنا دیا جائے ؟ اگر چہ اولادکو یہ یقین ہے کہ جو کچھ بھی دیا وہ سب شراب کے رستہ چلا جائے گا۔ شریعت پاک کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ (۳) تہبند کے نیچے، پاجامہ کے نیچے وہ چڑی جس میں لاسٹک ہوتی ہے یعنی فٹ ہوتی ہے اس کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ از روئے شرع چڑی کے لئے کیا حکم ہے؟ جبکہ چڑی آج عام ہو چکی ہے اور ہر شخص استعمال کرتا ہے، نیچے پہن کر نماز بھی پڑھتے ہیں۔ حکم شرع سے مطلع فرمائیں۔
(1) العقود الدريه، في تنقيح فتاوى الحامدیه ، ج ۱، ص ۳۸، دار المعرفت، بیروت الجواب: (1) صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے جائز شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے پھر زید کو اس سے نکاح حلال ہوگا اور یہ اس وجہ سے کہ زید کے کلام میں دلالۃ وعرفا اضافت طلاق کی بیوی کی طرف موجود ہے۔ لہذا نظر بر آں طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہے۔ البتہ زید نقسم کہے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی تو بوجہ احتمال عدم اضافت مان لیں گے پھر یہ یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے اور اس پر کچھ چھپا نہیں۔ اور قسم جھوٹی کھانا اپنا گھر برباد کرنا ہے اور جھوٹی قسم سے اسے حرام حلال نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع اگر باپ محتاج ہے تو اولاد پر اس کا نفقہ واجب ہے مگر اس کے ہاتھ میں نہ دیں جبکہ صحیح اندیشہ ہو کہ شراب میں اڑادے گا۔ ہندیہ میں ہے: ” يجبر الولد الموسر على نفقة الابوين المعسرين مسلمين كانا او ذميين ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس میں مضایقہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق الفصل الخامس فى نفقة ذوى الارحام، ج ۱، ص ۶۱۱-۶۱۰ دار الفکر بيروت