ایک مجلس کی تین طلاق کے وقوع اور حلالہ کے وجوب کا بیان
نوٹ: میں نے اللہ کے اس حکم کو مان کر حلالہ کے بغیر اپنے بھتیجے نجم الدین کا نکاح مبلغ گیارہ سو روپے نئے مہر پر پھر پڑھوا دیا ہے۔ اور اب تمام مسلمانوں کی معلومات کے لئے اسے چھپوا کر اشتہاری شکل میں تقسیم کرارہا ہوں تا کہ جو عورتیں طلاق شدہ ہیں وہ حلالہ جیسی لعنت سے بچ جائیں۔ خلیل احمد (عرف شبراتی مڈل ) اگر مذکورہ فتویٰ غلط ہے تو آپ مفصل اور مدلل اسی کاغذ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں ارسال فرمائیں۔ نہایت مہربانی ہوگی! المستفنى: ممدنسیم خاں، امام مسجد کار گارنگر قمر کالونی، ناگپور
الجواب: تین طلاقیں کمہارگی دینا گناہ ہے مگر ایک ہی مجلس میں ایک ہی جملہ سے خواہ تین جملوں میں اگر کسی نے طلاق دی تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔ اب وہ عورت شوہر کے لئے بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔اس پر چاروں مذاہب کے ائمہ کرام کا اتفاق و اطباق ہے بلکہ یہ امر سید نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ اقدس سے اجماعی چلا آ رہا ہے چنانچہ مسلم شریف وغیرہ میں حدیث ہے جس میں وارد ہوا: ان الناس قد استعجلوا فی امر كانت لهم فيهاناةفلوامضيناه عليهم (1) حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں خلافت فاروق کے شروع دور تک اگر کوئی تین طلاقیں دیتا تو ایک ہی طلاق متصور ہوتی تھی اس لئے کہ لوگ اکثر و بیشتر تاکید مراد لیتے تھے اور مختلف جملوں میں ہر جملہ سے نئی طلاق مراد نہ ہوتی تھی پھر عہد فاروقی میں لوگوں کی عادت بدل گئی ۔ یعنی لوگ جملہ طلاق کی تکرار کرتے اور ہر جملہ سے نئی طلاق مراد لینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محضر صحابہ میں فرمایا کہ لوگوں نے اس معاملہ میں جلدی مچائی جس میں انہیں مہلت تھی تو بہتر ہے کہ ہم ان پر حکم نافذ کر دیں یعنی لوگوں کی مراد کے مطابق تین طلاقوں کے واقع ہونے کا حکم فرمائیں۔ تو باجماع صحابہ یہ قرار پایا کہ اگر کوئی یکبارگی تین طلاق دے گا تو تین ہی واقع ہوگی اور جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے زمانے میں اس امر پر اجماع ہو گیا تو کسی کو اختلاف حلال نہیں اور (1) الصحیح لمسلم، باب طلاق الثلاث، ج ۱، ص ۴۷۸ مجلس برکات اختلاف کا اصلاً اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاہب اربعہ جن میں کسی ایک کی تقلید گروہ ناجی اہل سنت و جماعت کا شیوہ وشعار ہے ان میں کوئی اس کا مخالف نہیں بلکہ اس پر متفق ہیں کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین قرار پائیں گی خواہ ایک ہی جملہ سے خواہ متفرق جملوں سے ۔ مگر ہماری تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ مسلم شریف کی حدیث جو ابھی ذکر کی گئی اور جسے غیر مقلد بڑے طمطراق سے اپنے مدعی پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں وہ جمہور اہل سنت کے مذہب مہذب کی دلیل اور بفضلہ تعالیٰ ہم اہل سنت کے لئے اتباع صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی شاہد اور صحابہ کرام کی اقتدا میں ہے اور یہی حدیث غیر مقلدوں کی بیدینی کی گواہ ہے۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ہم اجماع صحابہ کے مخالف نہیں، جس کا پتہ اس حدیث میں دیا اگر چہ براہ نا واقعی اپنے باطل مدعی کی دلیل سمجھیں اور اجماع مسلمین کا خلاف اللہ ورسول جل وعلی وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خلاف بد مذہبی اور اُن سے دشمنی کرنا ہے۔ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيراً پھر اجماع مسلمین بھی کیسا جو خیر القرون کے صحابہ کا اجماع ہے جو اعلیٰ ترین اجماع ہے اس کی مخالفت کس درجہ ضلالت و گمرہی و بے دینی ہے۔ اور ان غیر مقلدین کا فریب ہے اور جب غیر مقلدوں کا منصب بے دینی وضلالت ہے تو ان لوگوں کو قرآن و حدیث سے سوائے اتباع ہوائے نفس کے کیا سروکار اور انہیں قرآن وحدیث سے کیونکر ہدایت ہوسکتی ہے؟ ہدایت سے محرومی کا نمونہ دیکھئے۔ زیر نظر فتوی میں غیر مقلد نے بخاری شریف کی ایک حدیث کو اپنے باطل دعوئی کی دلیل بنایا ہے۔ چنانچہ غیر مقلد کے الفاظ سنتے چلئے ،فتویٰ میں لکھا: اسی طرح کا ایک واقعہ اب سے ۱۴۰۰ سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بھی ہو چکا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ وحی نازل کر کے اسلام کا قانون طلاق مرتب کر رہا تھا۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ حضور کے ایک صحابی عاصم بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی ۔ عدت پوری ہونے کے بعد بیوی اپنے میکہ میں جا کر اپنے بھائی معقل بن سیسار ان کے پاس رہنے لگی تھی ، عاصم بن الہعنہ نے کچھ دنوں کے بعد اس کے بھائی معقل بن یسار بنی امن کے پاس ان کی بہن سے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا تو بھائی نے ان کے ساتھ اپنی بہن کا دوبارہ نکاح کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بات حضور تک پہنچ گئی۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی اور اپنا حکم نازل کیا۔ جو قرآن مجید کے پارہ ۲ سیقول میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۲۳۲ میں ہے۔ حضور نے معقل بن یسار یا الہشمند کو بلا کر قرآن مجید کی یہ آیت سنائی ، تب انہوں نے سر جھکا دیا اور اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ اب غیر مقلد سے کوئی پوچھے کہ اس حدیث میں کون سے لفظ سے یہ نکلا کہ بقول غیر مقلد مذکور : طلاق دیتے وقت شوہر نے منہ سے ایک مرتبہ طلاق کہا کہ تین چار مرتبہ کہا! قانون ساز اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ جب تک اللہ کی مقرر کی ہوئی میعاد یعنی مدت کے تین مہینے پورے نہ ہو جائیں اس وقت تک ایک طلاق نامکمل رہتی ہے۔ اور نکاح نہیں ٹوٹتا۔ عدت کے اندراگر شوہر بیوی کو لوٹا کر پھر رکھ لے تب ایک طلاق رجعی یعنی بیوی کو لوٹا لینے والی ایک طلاق ہوتی ہے اور نکاح برقرار رہتا ہے غیر مقلد صاحب نے بخاری سے جو حدیث پیش کر دی اور اسی بخاری میں ”باب من جوز الطلاق الثلاث“ اور اس کے تحت وہ حدیثیں نہ دیکھیں جن سے طلاق البتہ اور تین طلاقوں کا واقع ہونا ثابت ہے وہ باب بھی نہ سوجھا؟ نہ تو سوجھا نہ اس کی احادیث دکھائی دیں تو کیا اسی باب کی دوسری حدیث جو اس کے متصل اسی بخاری میں ہے وہ بھی نظر نہ آئی ؟ وہ حدیث ہم سے سنیں : حدثنا قتيبة قال حدثنا الليث عن نافع ان ابن عمر طلق امرأته وهي حائض تطليقة واحدة فأمره رسول الله الله ان يراجعها ثم يمسكها حتى تطهر ثم تحيض عنده حيضة اخرى ثم يمهلها حتى تطهر من حيضتها فاذا اراد ان يطلقها فليطلقها حتى تطهر من قبل ان يجامعها فتلك العدة التي امر الله ان يطلق لها النساء وكان عبد الله اذا سئل عن ذالك قال لا حدهم ان كنت طلقتها ثلاثا فقد حرمت علیک حتی تنکح زوجا غیرک وزاد فيه غيره عن الليث قال حدثنی نافع قال ابن عمر لو طلقت مرة او مرتين فان النبی و امرني بهذا (1) خلاصه مطلب حدیث یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی تھی اور وہ حالت حیض میں تھی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ بیوی سے رجعت کر لیں ، پھر اس کو رکھیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر دوسرا حیض آئے پھر اسے مہلت دیں کہ وہ حیض سے پاک ہو، اب اگر بیوی کو طلاق دینا چاہیں تو طہر کی حالت میں جماع سے پہلے طلاق دیں اور سید نا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو وہ تمہارے اوپر حرام ہے یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر کے پاس رہے اور ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر نے سائل سے کہا کہ تم اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہی حکم فرمایا۔ غیر مقلد کی خیانت ملاحظہ ہو کہ اس باب کے تحت دوسری حدیث اس کے مذکور حدیث کے بعد فصل بخاری میں ہے اسے غیر مقلدوں نے یا اسے موصوف نے چھپادیا اور خود سے جوحدیث ذکر کی اس میں زبردستی اپنی طرف سے ہی فرض کیا کہ عاصم بن عدی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں، حالانکہ اس میں اصلا تین طلاقوں کا ذکر نہیں بلکہ اسی بخاری میں غیر مقلدوں کی مذکور حدیث سے پہلے ایک حدیث لکھی جس میں تصریح ہے کہ شوہر عاصم بن عدی نے معقل کی بہن کو ایک طلاق دی تھی۔ و ہذ انصہ : حدثنا محمد قال انا عبد الوهاب قال حدثنا يونس عن الحسن قال زوج معقل اخته فطلقها تطليقة ان سب سے قطع نظر خود اس باب میں ایک طلاق یا دو طلاقوں کی تصریح بخاری نے کر دی تھی چنانچہ بخاری میں ہے: ’باب قوله و بعولتهن احق بردهن في العدة وكيف يراجع المرأة اذا طلقها واحدة اوثنتين صحیح البخاری، باب قوله وبعولتهن احق بردهن فى العدة وكيف يراجع المرأة اذا طلقها واحدة اوثنتين، ج ۲، ص ۰۳-۸۰۲ مجلس برکات اوثنتين، وقوله فلا تعضلوهن یعنی یہ باب اس لئے کہ یہ بیان اس باب میں ہے کہ عورتوں کے شوہر عدت میں اپنی بیوی کو لوٹا لے اس کے بعد شوہر نے جب ایک یا دو طلاق دے دی تو عدت میں کسی طرح رجعت کریں اور اللہ تعالیٰ کے قول فَلا تَعْضُلُوهُنَّ کے باب میں ہے۔ یہاں سے غیر مقلد کی خیانت ظاہر ہوگئی اور کھل گیا کہ غیر مقلد کی مذکورہ حدیث میں ایک طلاق کا ذکر ہوا اور اس کے متصل دوسری حدیث میں تین طلاقوں کے واقع ہونے کا ثبوت اور حلالہ کا جواز مصرح ہے اور اس میں مزید تحریر ہے کہ تین طلاق سے بیوی ایسی حرام ہو جاتی ہے کہ بے حلالہ شوہر کو حلال نہ ہوگی اور یہی قرآن کا ارشاد ہے، قال تعالیٰ: (فلا تحل له مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَة) تو غیر مقلدوں کا بے وجہ شرعی حکم بتانے والوں کے متعلق یہ کہنا کہ اگر کوئی منع کرتا ہے یا پابندی لگاتا ہے تو وہ انتہائی بد بخت اور سخت گنہ گار بلکہ کافر ہے صحابہ کرام بلکہ رسول علیہ السلام سے دشمنی ہے اور ان سے دشمنی اور ان سب کی تکفیر ہے۔ ہم نے غیر مقلدوں کے رد میں ایک طویل فتویٰ لکھا ہے، ہم نے جمہور اہل سنت کا مذہب مہذب ثابت کیا ہے جو عنقریب منظر عام پر آ جائے گا ، اسے ضرور ملاحظہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ