طلاق رجعی، بائن، مغلظہ کی تعریف اور دیوبندی مدرسہ میں ملازم کی امامت کا حکم
ساتھ مفصل جواب ارقام فرما یا جاوے مہربانی و کرم ہو گا۔ (۲) طلاق رجعی ، بائن، مغلظہ ۔ ہر ایک کی تعریف کیا ہے؟ اور کن کن الفاظ سے رجعی، بائن،مغلظہ ہوتی ہے؟ اور پھر اس کو اپنے نکاح میں کیسے لایا جا سکتا ہے؟ کیا طریقہ واحکام شرع ہے؟ ہر ایک کی تشریح خلاصہ الگ الگ مفصل جواب عنایت فرما کر کرم فرما ئیں۔ نوازش ہوگی ۔ (۳) دیوبندی مدرسہ سے ملحق بورڈ میں ملازمت کرتے ہیں اور سنی صحیح العقیدہ بھی ہیں، عالم ہیں، مسلک اعلیٰ حضرت کے پیرو ہیں ، دیو بندیوں سے نفرت دلی بھی رکھتے ہیں۔ صرف دنیا داری طور پر میل جول لین دین ہوا کرتا ہے؟ ایسے کی امامت واقتد ادرست ہے کہ نہیں؟ بینوا توجروا المستفتی: غلام صابرحسین خانقاه رضوانیہ شاہ وزارت حسین روڈ ، نانپور ضلع سیتا مڑھی (بہار)
(1) گواہوں کے بیانات مختلف ہیں۔ لہذا کوئی حکم متعین نہیں کیا جاسکتا۔ شوہر بتائے اس نے ان دو جملوں میں سے کونسا جملہ کہا؟ یا دونوں جملے ساتھ ساتھ کہے؟ یا ان کے علاوہ کچھ اور کہا ؟ وہ بھی بیان کرے اور یہ جملے بولے تو اس کی کیا مراد تھی ؟ یا کچھ مراد نہ تھی ؟ واللہ تعالی اعلم (۲) لفظ صریح مثل ، طلاق و چھوڑ دیا سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اور طلاق رجعی دو بار ہے۔ قال تعالى: {الطلاق مرتنِ- الآية } () تیسری بار طلاق کہنے سے مغلظہ واقع ہوگی اور بیوی بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ اور الفاظ کنایہ، جیسے : ” جانکل، چلتی بن، چلتی نظر آ سے بہ شرط نیست یا مذاکره طلاق بائن واقع ہوتی ہے اور بائن میں برضائے زن بہ مہر جدید عدت میں خواہ بعد عدت نکاح جدید کا اختیار ہوتا ہے ۔اور طلاق رجعی کی صورت میں عدت میں رجعت کا حق ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیوبندی منکر ضروریات دین و گستاخ بارگاہ الوہیت و رسالت ہونے کے سبب کا فرمرتد بے دین ہیں۔ ایسے کہ علمائے حرمین شریفین و مصر و شام و ہند وسندھ نے فرمایا کہ جو ان کے کفریات پر مطلع ہوکر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اور مرتدین سے معاملت حرام ہے۔ لہذا دیو بندیوں کی ملازمت کی اجازت شرعاً نہیں اور جس پر شرعاً یہ جرم ثابت ہو وہ جب تک دیو بندی کی ملازمت چھوڑ کر تو بہ صحیحہ نہ کرے، لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲ / جمادی الآخر ه ۱۴۰۵ھ ۱۱؍ جمادی الآخره ۱۴۰۵ھ