غیر مسلم اکثریت والے علاقے میں طلاق کے ثبوت اور ہندووں کی گواہی کا حکم
جہاں اکثریت ہنود کی ہو وہاں ہندووں کی گواہی شرعا معتبر ہے کہ نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شریعت مسئلہ ذیل میں کہ: مانگی لال عمر ۲۰ سال ساکن بالا پورہ نے اپنی منکوحہ بیوی عیداں کو اس کے گاؤں پگاراں آکر تحریر کے ذریعہ طلاق دی اس طلاق نامے پر گاؤں کے چار ہند و خود مانگی لال کے رشتہ دار اسماعیل ساکن بالا پورہ کے دستخط ہیں۔ اگر چہ طلاق کے وقت لڑکی عیداں کا باپ اور اس کے گھر کے دیگر افراد بھی موجود تھے مگر ان میں سے کسی کے دستخط تحریری طلاقنامے پر نہیں ہیں۔ گاؤں کی کل آبادی تقریباً ۴۰۰/افراد پر مشتمل ہے جس کی اکثریت ہندو ہے صرف دو گھر مسلم ہیں۔ ایک لڑکی کے باپ کا اور ایک دوسرے نداف کا جو بوقت طلاق وہاں پر موجود نہ تھا، گاؤں کی تمام آبادی اس طلاق کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ یہ بات اس وقت گاؤں میں مشہور ہو چکی تھی۔ بعد عدت گزرنے کے نکاح خواں امیر محمد ساکن الود نے عیداں کا نکاح مدار بخش کے ساتھ پڑھادیا۔ نکاح کے چند دن بعد مانگی لال نے خرچہ ( روپیہ) اچکنے کے لالچ سے قصبہ الود کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن وہاں کے عام مسلمانوں کے سامنے پہنچایت انجمن اسلامیہ کو حکم بناتے ہوئے درخواست دی کہ میں نے عیداں کو طلاق نہیں دی ہے اور امیر محمد نے بغیر طلاق میری بیوی کا نکاح مدار بخش سے پڑھا
دیا ہے ساتھ ہی اس تحریری طلاقنا مے کو بھی فرضی بتایا۔ اس درخواست پر انجمن اسلامیہ الود نے لڑکی کے باپ حسن شاہ کو طلب کیا اور تا فیصلہ امیر محمد نکاح خواں کو برادری سے باہر کر دیا۔ تیرے جمعہ کو حسن شاہ لڑکی کے باپ نے چار ہندو گواہوں کو عام مسلمانوں کی پنچایت کے سامنے پیش کیا اور چاروں گواہوں نے سوگند کھا کر گواہی دی کہ ہمارے سامنے مانگی لال نے عیداں کو چھٹکارا دیا ہے۔ پانچواں گواہ اسماعیل جو پاس کے گاؤں بالا پورہ میں رہتا ہے اس کو جب پنچایت مسلماناں نے گواہی کے لئے طلب کیا تو اس نے مانگی لال سے رشتہ داری کی بنا پر گواہی دینے سے گریز کیا اور ادھر ادھر ہو گیا۔ اسی پر پنچایت انجمن اسلامیہ نے (جس کو مانگی لال نے حکم بنا یا تھا اور حسن شاہ نے حکم تسلیم کیا تھا) چاروں ہندو گواہوں کو معتبر مانتے ہوئے مانگی لال کی درخواست رد کر دی اور عیداں کو مطلقہ تسلیم کرتے ہوئے مدار بخش کے ساتھ اس کا نکاح صحیح ہونے کا تحریری فیصلہ دیا اور امیر محمد کو غلط نکاح پڑھانے کے الزام سے بری کر دیا۔ اس تحریری فیصلے پر انجمن اسلامیہ الود کی مہر اور اُس کے عہدیداران د ممبران کے دستخط موجود ہیں۔ مذکورہ بالا واقعے میں چند امور دریافت طلب ہیں: (1) جس گاؤں کی اکثریت ہندو ہو اور بوقت طلاق کوئی مسلم گواہ موجود نہ ہو تو ہندو گواہوں کی گواہی معتبر ہے یا نہیں؟ (۲) پانچ گواہوں میں چار ہندو گواہوں نے گواہی دی ہو اور مسلم گواہ نے گواہی دینے سے گریز کیا ہوتو اس صورت میں پنچایت مسلمانان (حکم) ہندو گواہوں کی گواہی ( جبکہ وہ اس کی نظر میں معتبر ہوں) قبول کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہندو کی گواہی قبول کر کے فیصلہ دیا ہوتو وہ مانا جائے گا یا نہیں؟ (۳) حکم نے صورت حال کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ دیا ہے تو وہ فیصلہ فریقین کو ما نالازم ہے یا نہیں؟ (۴) کوئی مسلم گواہ نہ ہو یا ہو مگر وہ گواہی دینے کو تیار نہ ہو ایسی صورت میں اگر گاؤں تمام ہندو آبادی بشمول ہندوسب ( نیچے ) طلاق کی تصدیق کر دے اور قاضی بھی اس تصدیق سے مطمئن ہو تو طلاق مانی جائے گی یا نہیں؟ (۵) مسلم گواہوں کی عدم موجودگی یا گواہی سے گریز کی صورت میں باپ، ماں، بہن، بھائی وغیرہ گھر کے دیگر افراد میں سے کسی کی گواہی زوجہ کے حق میں دربارہ طلاق معتبر ہے؟ الجواب: المستفتی: غفورشاه نئی کالونی ، تالبیرہ ضلع بوندی (راجستھان) (۱) نہیں ۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ قال تعالیٰ: {وَلَن يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً } (۲) ہندؤوں کی گواہی قبول کرنا جائز نہیں اور وہ لوگ گنہگار ہیں اور اس گواہی پر جو فیصلہ دیا وہ لائق قبول نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس کا حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس صورت میں طلاق ثابت نہ ہوگی اور چند غیر مسلم لوگوں کا بیان معتبر ہی نہیں تو اس کی تصدیق کا کیا معنی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بہن بھائی کی شرعی گواہی معتبر ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲ / جمادی الاخرمی ۱۴۰۶ھ