دباؤ میں انگوٹھا لگوانے سے طلاق کا حکم اور دوران عدت دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت
انگوٹھا لگوا لینے سے طلاق ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جس میں جان کا خطرہ ہو، اسی اندیشہ سے انگوٹھا لگا یا گیا۔ اس کی منکوحہ لڑکی کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ قریب دس بارہ دن کے بعد کر دیا گیا۔ اس مدت میں ایام عدت واقع عائد ہوئی یا نہیں؟ نکاح پڑھانے والے ایک مولوی صاحب اسلامیہ اسکول میں بچوں کو علم دین پڑھاتے ہیں اور عالم صاحب کی عدم موجودگی میں امامت بھی کرتے ہیں۔ مولوی صاحب کا شرعی مسئلہ سے کوئی جرم ہوا یا نہیں ہوا؟ جبکہ مولوی صاحب نے جانتے ہوئے ہر معاملات کو نکاح پڑھایا، جبکہ ہیڈ مولانا نے جو کہ ایک سند یافتہ عالم ہیں، چار چھ دن پیشتر مولوی صاحب کو منع بھی کیا کہ اس معاملہ میں نہ پڑنا۔ نوٹ: اس معاملہ میں بہت فساد بڑھ رہا ہے۔ امید جھگڑا ہونے کی ہے شرعی مسئلہ سے آگاہی مرحمت ہو، عین نوازش ہوگی۔السلام علیکم
الجواب: صورت مسئولہ اگر واقعی ہے تو طلاق نہ ہوئی جب کہ زبان سے الفاظ طلاق نہ بولے ہوں ورنہ زبان سے جیسی اور جتنی طلاقیں دی ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں ہو گئیں اور نکاح اس عورت کا جو دوسرے سے کیا گیا، باطل محض ہے جبکہ وہ دوسرے کی منکوحہ تھی اور نکاح کرنے والے کو اس کا منکوحہ غیر ہونا معلوم تھا۔ قال تعالیٰ: {وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } () اور قربت اس سے قطعاً خالص زنا اور اگر اسے علم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا۔ اور اب بعد علم متارکہ فرض ہے اور متارکہ یہ ہے کہ عورت سے مرد کہے میں نے تجھے چھوڑا، یا عورت مرد سے یہ کہے کہ میں تجھ سے جدا ہوئی اور مولوی مذکور جس نے واقف حال ہو کر یہ نکاح پڑھایا، سخت فاسق ہے۔ اس پر اور جملہ واقفان حال و شر کالے مجلس پر تو بہ لازم ہے بے تو بہ صحیح اسے امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ”لوقدموا فاسقاياثمون“(۲) (1) سورة النساء: ۲۴ (۲) غنية المستملى شرح منية المصلى ، فصل في الامامة، ص ۵۱۳، سهیل اکیڈمی اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۰ ذی قعدہ ۱۳۹۶ھ