طلاق،طلاق،طلاق، ہاں طلاق کا حکم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: زید کی بیوی ہندہ کا کہنا ہے کہ میرے شوہر نے گھر کے اندر بلا کر کہا کہ تم میرے گھر سے چلی جاؤ ، دوبارہ کہا، پھر زید کی بیوی ہندہ نے کہا کہ نہیں جاؤں گی نہیں جاؤں گی، پھر تیسری بار زید نے ہندہ کو کہا ، طلاق ، طلاق ، طلاق ، ہاں طلاق ۔ اس وقت فوراً ہندہ گھر سے نکل کر اپنی جٹھانی سے سب بات کہہ دی اور پورے گاؤں والے سے کہہ دی۔ تب گاؤں والوں نے زید اور ہندہ کو بلا کر پوچھا تو ہندہ کا جواب وہی ہے جو او پر لکھا ہوا ہے۔ اور زید کا کہنا ہے کہ میں نے صرف دو مرتبہ کہا ہے کہ تم چلی جاؤ۔ دونوں کا کوئی سنے والا گواہ نہیں ہے۔ ہندہ کے کہنے پر سب نے سنا۔ المستفتى : محمد انعام الحق مسکونه بنگر اڈیہ، ڈاکخانہ بلرام پور با رسوئی گھاٹ، کٹیہار (بہار)
الجواب: اگر واقعہ یہی ہے کہ زید نے ہندہ سے تین بار طلاق ، طلاق،طلاق“ کہا تو ہندہ زید پرایسی حرام کہ بے حلالہ اسے بھی حلال نہ ہوگی، ہنگر زید جبکہ منکر ہے اور دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورتیں عدول طلاق کے گواہ نہیں تو تنہا ہندہ کے بیان سے طلاقیں ثابت نہ ہوئیں۔ البتہ جبکہ وہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ زید کو خود پر قابونہ دے بلکہ اس سے دورر ہے۔ در مختار میں ہے : ” فى البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ،، ذالک اصرت عليه ام اكذبت نفسها (1) اب زید کو چاہئے کہ اس کو گلو خلاصی کر دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم الفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۰ / جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ