بعد مغلظہ وانقضائے عدت عورت مختار ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہندہ کا نکاح فتح محمد کے ساتھ ہوا اور ڈیڑھ سال تک آنا جانا رہا اس کے بعد کھانے کی بات پر جھگڑا ہوا اور فتح محمد نے اپنی بیوی کو مارا اس طرح مارا کہ اس کا ایک ہاتھ اور ایک پیر توڑ دیا۔ لڑکی والے جب فتح محمد کے گھر پہ گئے تو فتح محمد سے انہوں نے پوچھا کہ اس نے لڑکی کو مارا؟ فتح محمد نے کہا کہ میں نے طلاق دے دیا، میں نے طلاق دے دیا، میں نے طلاق دے دیا۔ ہندہ کے والدلڑکی کو اپنے گھر لے آئے اور اس کا علاج کرایا پھر لڑ کی میکے جب اپنے رہنے لگی قریب یہ واقعہ ہوئے عرصہ ۵ سال کا گزررہا ہے۔ اب دوسری جگہ شادی ہونے والی ہے۔ اب گاؤں والے دوسری جگہ شادی ہونے نہیں دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت کے یہاں سے فتویٰ لاؤ تب شادی کر لینا۔ لہذا برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا۔ اور ہندہ کے والد انتقال کر چکے ہیں۔ دونوں بھائیوں میں نا اتفاقی پڑ گئی ہے۔ اب لڑکی کے دونوں بھائیوں میں جھگڑا ہوا تو ایک بھائی کہتا ہے کہ ہم نہیں کھلائیں گے، دوسرا کہتا ہے تم کھلاؤ۔ اب لڑکی پریشان ہے اور ہندہ شادی کرنا چاہتی ہے اور شادی کے لئے بالکل تیار ہے۔ لہذا برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں! آپ کا مشکور : محمد اسماعیل خاں
الجواب: صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور وہ فتح محمد کے لئے ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالیٰ: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} () حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور وہ شخص وطی کرے پھر طلاق دے دے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے یا مر جائے ۔ پھر عدت گزار کر اس سے نکاح کر سکتی ہے اور حدیث میں ہے: لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک) ہندہ اب مختار ہے، کفو میں کسی سے چاہے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله