نشہ کی حالت میں تین طلاقوں کا وقوع، اذان کے بعد صلاۃ اور زکاۃ کے مصرف کا حکم
۱۶ / رجب المرجب ۱۳۹۶ھ کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) زید نے شراب کے نشہ میں ۳ بار اپنی بیوی کو کہا: ”میں نے تجھے دی ، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی تحریر فرمائیے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ (۲) یہاں پر بعض آدمی بعد اذان، صلاۃ پڑھتے ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور فقہ کی کسی کتاب میں اس کا ذکر ہے یا نہیں؟ (۳) مدرسہ میں جو رو پیرز کاۃ کا آتا ہے، اس کا استعمال مدرسہ میں کس طرح کیا جائے؟ فقط ! المستفتی: حکیم حافظ کفایت اللہ خاں،نوری دواخانہ، دھام پور ضلع بجنور
الجواب: (1) تینوں طلاقیں واقع اور بیوی نکاح سے فوراً باہر اور زید پر ایسی حرام کہ بعد عدت جب تک دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع ہو کر طلاق نہ ہولے اور عدت نہ گزرجائے ، زید کو اس سے نکاح قطعی حرام ۔ در مختار میں ہے: (1) (۲) وو و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل أو سكران ولو بنبيذ أو حشيش ملخصاً (۲) واللہ تعالیٰ اعلم جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات الدر المختار، کتاب الطلاق، ج ۴، ص ۴۳۸، ۴۴۴، ۴۴۵، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) بلاشبہ جائز ہے اور مستحسن ہے۔ در مختار میں ہے : التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبع مائة واحدى و ثمانين في عشاء ليلة الاثنين ثم يوم الجمعة ثم بعد عشر سنين حدث في الكل الا المغرب ((ثم فيها مرتين، وهو بدعة حسنة)) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) غریب و نادار طلبہ کو وہ رقم یا اس سے کتاب وغیرہ خرید کر دے دیں۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ