شوہر کے طلاق دینے سے انکار اور عورت کے کچہری میں طلاق کے مقدمے کا حکم
طلاق دینے کا اختیار کیسے ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل کے بارے میں کہ: زید اور اس کی بیوی میں نا اتفاقی ہوگئی اس پر اس کی عورت نے کچہری میں مقدمہ نان ونفقہ کا دائر کر دیا اور بیان دیا کہ ہم کو زید مارتا پیٹتا ہے اس لئے میں اس کے پاس نہیں رہنا چاہتی اور گزارا لینا چاہتی ہوں۔ مقدمہ جیتنے پر کچہری نے سور پپیہ ماہوار زید کے ذمہ باندھ دئے اور حکم سنادیا کہ جب تک یہ عورت دوسری شادی نہ کرلے، دینا ہوں گے۔ جس کا کل روپیہ تقریباً آٹھ ہزار دے چکا ہے اب اس نے کچہری میں مقدمہ طلاق بامہر اور جہیز دائر کیا ہے اور طلاق عورت مانگتی ہے زید طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اس عورت کا مہر نکاح پانچ ہزار سات سو پچاس روپیہ ہے اور طلاق شوہر کے نہ دینے پر واقع ہوگی یا نہیں؟ المستفتی: علی محمد رضوی ساکن رائے پور بچھوری جوگراج پور ضلع شاہجہان پور
الجواب: طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ قال تعالیٰ: { بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاح - الآية } (۱) حدیث میں ہے: ،، الطلاق لمن اخذ بالساق (۲) دوسرے کے دینے سے طلاق واقع نہ ہوگی اور اس سے دوسرا نکاح عورت کو حلال نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی