تین طلاقوں سے عورت فوراً نکاح سے باہر ہو گئی اب بے حلالہ کوئی چارہ نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں طلاق دے دی، میں نے تین مرتبہ کہہ دیا کہ ”میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی۔ اور ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر سے نکال دیا میرے گھر کے برابر میں میرے حقیقی بھائی کا گھر ہے جس میں وہ جا کر رکی مجھے جب کچھ سکون حاصل ہوا اور غصہ اترنے کے بعد میں نے اسے اپنے گھر میں بلالیا تو مجھے معلوم ہوا کہ طلاق ہوگئی اور میں اسے اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا تو وہ اپنے حقیقی بھائی کے یہاں چلی گئی۔ ایسی حالت میں میرے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ اس کو اپنی بیوی بنا کر رکھوں ۔
الجواب: طلاقیں تین ہوگئیں اور عورت فور انکاح سے باہر ہوگئی ۔ اب بے حلالہ کوئی چارہ نہیں ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کرے اور وہ اس سے جماع کر کے طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے۔ پھر عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى : (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم: لاحتی تذوقی عسیلته ويذوق عسيلتک (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح والحجب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (۱) سورة البقرة : ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات