حلالہ کے لئے کوئی خاص نکاح نہیں بلکہ بعد مغلظہ وانقضائے عدت جو نکاح دوسرے سے ہوا حلالہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) سوال یہ ہے کہ ایک لڑکا جس کا نام عبد الرؤف ولد مشھل میاں زوجہ بی بی حلیمہ والد کریم میاں ان دونوں میں عقد ہوا تھا کچھ روز کے بعد حلیمہ بی بی کو عبد الرؤف نے تین طلاق دے دی اور دوسرا عقد کر لیا۔ (۲) کچھ دن دوسری بیوی کے ساتھ گزر بسر کیا پھر دوسری بیوی کو بھی طلاق دی اور حلیمہ نے بھی دوسرا عقد کر لیا تھا بعد میں عبدالرؤف نے دوسری بیوی کو چھوڑ کر بغیر حلالہ کیے حلیمہ کے ساتھ نکاح کیا۔ (۳) کچھ دنوں تک طلاق نہیں دی دوبارہ حلیمہ کو تین طلاق دی اور دوسرا نکاح کیا کچھ دنوں کے بعد تیسری بیوی کو بھی اپنے میکے کے اندر چھوڑ دیا ہے۔ (۴) اور تیسری بار حلیمہ دوسرے مرد سے بھی نکاح کر چکی تھی لیکن بغیر حلالہ کے عبدالرؤف نے بی بی حلیمہ کے ساتھ نکاح کیا۔ (۵) آں جناب حضرت علامہ مفتی دین اس مسئلے کو ہم لوگوں سے حل کرنا مشکل ہے اس لئے حضرت علامہ مفتی دین کے دربار میں پیش کرنا پڑا جواب دیں۔ عبدالرؤف کو انجمن سے الگ رکھا گیا لیکن اس کا کہنا ہے کہ مجھے مسلمان بھائی کے ساتھ رکھا جائے لیکن انجمن کا کہنا ہے کہ جب تک دار الافتاء بریلی شریف کا فتویٰ نہیں ملے گا تب تک ساتھ رہنانا ممکن ہوگا۔ (1) عبد الرؤف صاحب کا گناہ کس صورت پر معاف ہوگا اور انجمن کے اندر مسلمان بھائی کے ساتھ
الجواب: صورت مسئولہ میں عبدالرؤف نے حلیمہ بی بی کو اگر ہر دفعہ طلاق دے کر چھوڑ دیا ہو اور حلیمہ نے عدت گزار کر شوہر ثانی سے نکاح صحیح کیا ہو پھر اس نے ہمبستری کر کے طلاق دی پھر عدت گزار کر حلیمہ نے عبدالرؤف سے عقد کیا تو یہ حلال ہوا اور اگر بغیر حلالہ کے رکھ لینے سے مراد یہ ہے کہ عبدالرؤف نے شوہر ثانی کی عدت گزارنے کے بعد بغیر نکاح کے اسے رکھ لیا تو زانی ہے اور سخت گنہگار ہے یوں ہی شوہر ثانی کی عدت میں اگر نکاح کیا ہو تو بھی حرام کا مرتکب ہوا یوں ہی شوہر ثانی اگر عبد الرؤف کی طلاق کے بعد عدت میں نکاح کیا تو حلالہ نہ ہو عبد الرؤف پر ان سب صورتوں میں تو بہ لازم ہے نیز ایک ہی دفع میں تین طلاق دینے سے تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم قاضی عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی