شوہر کے مظالم کی بنا پر عدالتی طلاق اور دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت
درگاہ کے قریب چالیس مکان اپنی اور اپنے بزرگوں کی ملکیت عدالت میں ثابت کر کے کافی نقصان پہونچا چکا ہے۔ مگر عدالت سے مکانوں کا کوئی مقدمہ اب تک نہیں جیتا ہے اور کسی مقدمہ میں سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے کامیاب نہیں ہوا ہے جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو یقین دلا کر دھوکہ دے کر ان کی عزت و مال پر کھلا حملہ کرنا ان کا پیشہ اور ذریعہ معاش ہے۔ ہندہ کے ماں باپ کافی ضعیف ہیں ہندہ کو آٹھ سال ہوئے ماں باپ کے پاس ان کی حفاظت میں ہے۔ ہندہ کے ماں باپ کے مرنے کے بعد یہ ظالم بکر اور زید جو کچھ غلط طریقہ ہندہ کے ساتھ کریں کم ہے۔ ایسی صورت میں عدالتی طلاق لے کر ہندہ کو دوسری جگہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ ماں باپ کے بعد ہندہ کو ہر طرح اپنی عزت اور جان کا بکر اور زید سے خطرہ ہے اور یہ رنجش موت و زندگی کا مع عزت وذلت سبب بنی ہوئی ہے۔ اور آئندہ ہر طرح ہندہ کی عزت و زندگی ان درندہ صفت بکر و زید سے خطرہ میں ہے یہ لوگ مسلمانوں کو یہاں تک دھوکہ دیتے ہیں کہ اگر ہم جس گورستان میں کھڑے ہو کر پڑھ دیں تو اُس گورستان کے سب مردے بخش دئے جاتے ہیں۔ بہر حال ان کے فریب اور مکاری دھو کہ بازی وغیرہ کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جس طرح ہو روپیہ بٹورنے کے لئے ہر ہتھیار کا استعمال کرنا ان کا شیوہ اور ذریعہ روزی کا ہے۔ یہ سب کچھ بہت کم لکھا ہے اس سے بھی کہیں اور زیادہ غلط طریقے ہیں جو قابل ذکر نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ماں، بیوی، بیٹی، بہن، بھانجی وغیرہ کی ہر طرح کی جائز و نا جائز کمائی کو حلال بتانا اور کھانا ہی ان کی زندگی ہے۔ لہذا بذریعہ شرع شریف ہندہ عدالتی طلاق لے کر اپنی حفاظت جان و مال کی خاطر عقد ثانی کر سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب: کچہری کو طلاق دینے کا حق نہیں۔ نہ اس کی طلاق سے عورت کو دوسرا نکاح حلال۔ طلاق کا حق شوہر کو ہے۔ جب تک شوہر طلاق نہ دے دے اور عدت نہ گزر جائے ، دوسرا نکاح حلال نہیں۔ جس صورت بنے شوہر سے طلاق لی جائے۔ خواہ مہر معاف کر کے یا کچھ دے کر تحریر خواہ حاکم کے دباؤ سے زبانی طلاق کہلوالیں۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ شوہر سے کوئی قول کفری صادر نہ ہوا ہواور اگر ثابت ہو کہ اس نے کوئی کلمہ کفر بولا تو نکاح فسخ ہو گیا۔ عدت کے بعد عورت آزاد ہے۔ رد المحتار میں ہے: ارتداداحدهما فسخ فی الحال ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ ذیقعده ۱۴۰۰ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی