تین طلاق کے بعد حلالہ، عدت کے اخراجات اور وراثت کے احکام
نیز زید کے ہندہ کو رکھنے کی صورت میں کیا کفارہ بھی ادا کرنا ہے؟ وہ بالوضاحت ارشاد فرما ئیں اور زید چونکہ وطن سے دور پردیس میں ہے اور بھائی بہن جن کے ساتھ ہندہ ہے اور زید سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عند الشرع کوئی حرج تو نہیں؟ (۲) زید کی والدہ بقید حیات ہے اور زید کی وراثت جو کچھ بھی تھی اس سے زید کو محروم کر دیا گیا۔ حتی کہ ترک وطن کرا دیا گیا۔ زیدا اپنی پھوپھی کے یہاں آکر رہنے لگا۔ ایک عرصہ تک زید پھوپھی کے یہاں ہی رہا۔ پھوپھی زاد بھائی نے ایک کارخانے میں نوکری لگا دی اور زید کی شادی بھی کرادی۔ زید اور اس کی بیوی ہندہ اپنی پھوپھی کے پاس ہی رہتے ہیں۔ اب جو روپیہ بطور سروس کے کٹ رہا ہے۔ بعد زید کے اس کا مالک کون ہو گا ؟ جب کہ اس کی ماں بھی نہیں ہے اور بیوی کو طلاق دے کر آزاد کر دیا ہے۔ زید کی مطلقہ بیوی زید سے اخراجات عند الشرع کیا پائے گی؟ اور نیز رکھنا چاہے تو حلالہ کی کیا صورت ہوگی ؟ برائے کرم سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں !
الجواب: المستفتی محمد اسلام چیرا پونجی ،شیلانگ ( آسام ) اور تین طلاقیں واقع اور ی کی بیس پر ہی حرام ہے ملالہ سے بھی نہ (۱) تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور زید کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے جائز شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے تو پہلے شوہر کو نکاح کے ذریعہ حلال ہوگی اور ہندہ عدت وہیں کرے جہاں زید کے پاس رہتی ہے اور زید پر اس سے پردہ فرض ہے اور عدت کا نفقہ زید پر لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) زید کے ورثہ کو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ