حالت حمل میں طلاق اور ثبوت طلاق کے لیے نصاب شہادت کا بیان
دوطلاق کا اقرار کرتا ہے۔ واضح رہے کہ عورت طلاق کے وقت حمل سے تھی ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ عورت مطلقہ ہوئی یا نہیں؟ اس میں حلالہ والی کیفیت تو نہیں؟ قرآن مجید و احادیث صحیح کے دلائل کے ساتھ فتویٰ سے نوازیں۔ بینوا توجروا۔ فقط والسلام! المستفتى : حافظ شمس الحق
الجواب: طلاق کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد و دو عورت عدول کی شہادت پر موقوف ہے اور شاہد کے لئے حضور، مسلمان مشہود بہ شرط ہے۔ درمختار میں ہے: لا يشهدا حد بمالم يعانيه بالاجماع (1) لہذا اس شخص کا بیان مسموع نہیں جو دیوار کی آڑ سے سن رہا تھا۔ ہندیہ میں ہے: ”لو سمع من وراء الحجاب لا يسعه ان يشهد لاحتمال ان يكون غيره اذ النغمة لتشبه النغمة ) یونہی ان عورتوں کا بیان نا مسموع ہے کہ نصاب شہادت نہیں۔ بالجملہ صورت مسئولہ میں طلاق ثابت نہیں ہے مگر عورت جبکہ تین طلاق کی سچی مدعیہ ہو تو اسے لازم ہے کہ شوہر سے دور بھاگے اور اسے اپنے پر قابونہ دے۔واللہ تعالیٰ اعلم (۱) (۲) صبح الجواب فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الدر المختار كتاب الشهادت، ج ۸، ص ۱۸۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت الفتاوى الهندية، كتاب الشهادات الباب الثاني فی بیان تحمل الشهادت، ج ۳، ص ۳۸۹، دار الفکر بیروت یہ صورت تعلیق طلاق کی ہے۔ اگر شوہر کے کہنے پر وہ سسرال نہ گئی تو دو طلاقوں کے واقع ہونے کا حکم ہے۔ عدت کے اندر شو ہر رجعت کر سکتا ہے۔ اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دومرد کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی اور اگر عدت کے اندر رجعت نہ کی تو بعد عدت وہ اس کے نکاح سے باہر ہو جائے گی اور دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت ہوگی اور تین طلاقیں بے شرعی گواہوں کے ثابت نہ ہوگی اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے یعنی بچہ پیدا ہو جانے سے ختم ہو جائے گی اور وہ شوہر کے ہمراہ سسرال گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی