دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق کے الفاظ زبان سے نہ نکلنے کا حکم
دو طلاق دیں، تیسری بارمنہ کے اندر بات رہی تو کیا حکم ہے؟ علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو گیا تھا اس نے بڑی زبان چلائی، مجھ سے برداشت نہ ہوسکا، میں نے اس کو طلاق دے دی دوبار۔ ایک بار جو میں نے کہا تو میری بہن نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ یہ مجھے پتہ نہیں کہ میرے الفاظ تیسرے بار کے باہر نکلے یا منہ کے اندر رہے۔ میری بہن مکان میں تھی ، میرے ماں باپ بھی موجود تھے، میری دوسری بیوی بھی موجود تھی۔ میری بیوی مرید بھی ہیں حضرت کی ۔ دو طلاق
الجواب: شوہر کے بیان سے معلوم ہوا کہ تیسری دفعہ اس نے منہ میں لفظ طلاق ادا کر دیا تھا۔ لہذا اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور وہ اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کرے وہ اس سے جماع کے بعد اسے طلاق دے۔ پھر عورت عدت کے بعد پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} () وقال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۹ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی