شوہر طلاق سے بقسم منکر ہے تو طلاق ثابت نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : ایک لڑکی کی شادی جب ہوئی تھی ، لڑکی بالغ تھی۔ اب سے تین سال پہلے کی بات ہے لڑکی کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور لڑکی کا کہنا ہے کہ ہم کو ایک دو مرتبہ اکیلے میں یہ بھی کہا کہ تم کو ہم نہیں رکھیں گے اور طلاق کا لفظ منہ سے نکالا۔ اب لڑکی دو سال سے ماں باپ کے پاس رہتی ہے اور لڑکا نہ لے جانا چاہتا ہے۔ نہ لڑ کی جانا چاہتی ہے ، نہ لڑکی کے ماں باپ بھیجنا چاہتے ہیں ۔ اور لڑکی کی طرف سے تحصیل میں طلاق نامہ بھی ہو چکا ہے۔ ان سب صورتوں میں نکاح پڑھا دینا جائز ہے یا نہیں؟ طلاق ہوئی یا نہیں؟ کیونکہ کہ لڑکی کے ماں باپ دوسری جگہ نکاح پڑھانا چاہتے ہیں اور بہت پریشان حال ہیں۔ المستفتی: مولوی عبد المطلب قادری موضع ارروا، پوسٹ خاص، اردوا تحصیل پولیاں ضلع شاہ جہانپور
الجواب: بصورت انکار شوہر طلاق کا ثبوت دومرد عادل یا ایک مرد و دو عورت ثقہ کی شہادت شرعیہ سے ہوتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر شوہر طلاق سے بقسم منکر ہے تو طلاق ثابت نہیں۔ البتہ اگر عورت تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو بھی اپنے اوپر قابودے۔ بلکہ اس کو لازم ہے کہ شوہر سے ایسی بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ پھر جب طلاق ثابت نہیں تو عند القاضی اسے دوسرے سے نکاح حلال نہیں۔ ہندیہ میں ہے: "ليس لها ان تمكن من زوجها - وکذالک ان سمعت انه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذالک و حلف فردها عليه القاضى لم يسعها المقام معه وينبغى لها ان تفتدى بمالها او تهرب منه وان لم تقدر على ذالك قتلته واذا هربت منه لم يسعها ان تعتد وتتزوج بزوج آخر (1) (1) الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، باب الاول في العمل بخبر الواحد ، ج ۵، ص ۳۶۱، دار الفکر، بیروت اگر چه بشر ط صدق زن دیانہ اسے دوسرے سے بعد عدت نکاح حلال ۔ اسی ہندیہ میں ہے: قال شمس الائمة السرخسی رحمة الله تعالى عليه: ما ذكر انها اذا هربت ليس لها ان تعتد وتتزوج بزوج آخر جواب القضاء، اما فيما بينها وبين الله تعالى فلها ان تتزوج بزوج آخر بعدما اعتدت كذافى المحيط )) اور اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو عورت کا دعویٰ ثابت اور شوہر کا کذب ظاہر ہوگا۔ اور عورت کو بعد عدت اختیار ہو گا کہ جس سے نکاح جائز ہو، کرے اور کچہری کا طلاق نامہ کوئی چیز نہیں۔ کہ طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ قال تعالیٰ: بِيَدِهِ عُقْدَةُ النكاح (۲) حدیث میں ہے: الطلاق لمن اخذ بالساق (۳) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب دوشنبه ۲۰ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ