دھمکی دینے کے لئے اپنی بیوی کو طلاق لکھوایا تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: شہادت ولی (جوان پڑھ ہے ) نے ایک لڑکے سے پرچہ لکھوایا اور پر چہ نغمہ بی کے بھائی کے ہاتھ میں دے گیا۔ تحریر میں شہادت ولی کا نشانی انگوٹھا نہیں ہے اور اب شہادت ولی اپنی نادانی سے سخت تائب ہے۔ معافی مانگتا ہے اور اس کا کہنا ہے اس نے تو صرف رعب ڈالنے کی غرض سے دھمکی دی تھی۔ پرچے کی نقل مندرجہ ذیل ہے اور پر چہ سوال کے ساتھ نتھی ہے۔ احمد خاں کا لڑکا جو شہادت ولی ہے خلیل خاں کی لڑکی نغمہ بی ہے احمد خاں کے لڑکے شہادت ولی نے طلاق دی، نغمہ کو طلاق دی، طلاق دی اپنا سامان آکر لے جائیں ۔ محترم عبدالوحید خاں صاحب نے جب شہادت ولی سے بیان لیا تو شہادت ولی نے حسب ذیل بیان دیا: ”میں (شہادت ولی) قمر سے ملا اور کہا کہ ایک بات لکھواتا ہوں یہ لکھ دو احمد خاں کے لڑکے شہادت ولی نے خلیل خاں کی لڑکی نغمہ بی کو طلاق دی، تین جگہ لکھ دو، جو سامان اپنا ہے لے جائیں، میں نے دھمکی دینے کے لئے پرچہ لکھوایا تھا، میری بیوی جو میکے میں ہے سسرال والے بھیجد میں ۔ مندرجہ بالا بیان شہادت ولی نے حامد علی خاں اور مقصود خاں کے روبرو اور قمر علی موجود تھے
جن سے پرچہ لکھوا یا تھا۔ الجواب: المستفتی: عبد الوحید خاں صورت مسئولہ میں نفسہ بی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور وہ شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالیٰ: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} خلاصہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد وطی کرائے۔ وہ بعد وطی اسے طلاق دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے ۔ پھر عورت عدت گزارنے کے بعد اس سے نکاح کرے۔ حدیث میں ہے: ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸ ذی قعده ۱۳۹۶ھ