کسی نے شراب پلا دی اور نشے میں طلاق دے دی تو اس کا شرعی حکم
کسی نے شراب پلا دی اور نشے میں طلاق دے دی تو کب طلاق ہوگی کب نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص کو اس کے سالے نے دھوکہ سے شراب پلا دی ، بہنوئی شراب پینے کا عادی نہ تھا، نہ ہے، نہ پیتا ہے اور حالت نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، کئی بار طلاق کا جملہ استعمال کیا اور بیوی میکے چلی گئی ۔ اور شوہر دہلی چلا گیا لیکن اب چند معتبر حضرات نے دونوں کو قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ لہذا خادم نے سوچا کہ قانون شریعت کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: لیاقت حسین محله صوفی نول، پرانا شہر، بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر شخص مذکور نے تین بار سے زیادہ طلاق کے الفاظ بولے تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہو گا اور اس کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ، حلالہ سیہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ اس سے ہم بستری بھی کرے پھر وہ طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر یہ عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى: (حَتَّى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الآية )) (1) سورة البقرة:٢٣٠ اور حدیث میں ہے: "لا حتى تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک) اور یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ اس نے شراب کو عمد شراب جان کر پیا ہو، خواہ بیٹھنے سے پہلے علم ہو گیا ہو کہ یہ شراب ہے یا پینے کی حالت میں جان لیا ہو کہ یہ شراب پی رہا ہوں جب کہ پینے پر مجبور نہ کیا گیا ہو کہ اس صورت میں عمداً بہ رضامندی شراب پینے کی خباثت اس سے متحقق اور اب شرع مطہر سے زجراً وقوع طلاق کا حکم ہوا۔ ہدایہ میں ہے: ” و طلاق السكران واقع “(۲) اور اگر واقعی دھو کے میں پی گیا کہ اصلانہ جان سکا کہ شراب پی رہا ہے یا عمداً پی مگر پینے پر مجبور تھا به این طور که قبل یا قطع عضو یا ضرب سخت کی مثلاً دھمکی دی گئی اور پینے سے عقل زائل ہوگئی تو اب طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ ” وفي التحرير حكمه انه ان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الاحكام وتصح عباراته من الطلاق والعتاق والبيع والاقرار - الخ“ کذافی رد المحتار (۳) نیز رد المحتار میں ہے: قولا واختلف التصحيح فصحح في التحفة وغيرها عدم الوقوع وجزم فى الخلاصة بالوقوع قال فى الفتح والاول احسن لان موجب الوقوع عند زوال العقل ليس الا التسبب في زوار بسب محظور وهو منتف-الخ“(۲) اور اگر پینے سے ہنوز عقل زائل نہ ہوئی تھی اور طلاق دی تو طلاق واقع ہوگئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رشعبان المعظم ۱۳۹۶ھ الجواب صحیح والجيب مصیب ومثاب/ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات الهداية، كتاب الطلاق باب طلاق السنة، ج ۱، ص ۳۵۸، مکتبه رحیمیه (۳) رد المحتار، کتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران و حكمه، ج ۴، ص ۴۴۴، دار الكتب العلميه بيروت (۴) ردالمحتار، کتاب الطلاق، مطلب في الحشيشة والافيون، ج ۴، ص ۴۴۴ ، دار الکتب العلميه بيروت