میاں بیوی کے درمیان جھگڑے، بچوں کی حوالگی اور رشتہ ختم ہونے کی دھمکی کے اثرات کا بیان
داروں کے ساتھ نہیں رہوں گی ۔ میں نے گزرے ہوئے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے بھائی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ مگر میری اہلیہ مانتی نہیں تھی۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ میری طبیعت خراب ہوگئی اور حالت مرض میں بہت سختی سے پیش آنے لگی، ادھر ادھر کی باتوں سے میرا دماغ خراب کرنے لگی۔ میں اپنے بھائی کے گھر چلا گیا اور علاج معالجہ کے بعد دس روز میں ٹھیک ہو گیا اور خود آرام ہو گیا۔ ایک دن میری اہلیہ اور میرے خسر اور چار سالے یہ لوگ سب کے سب آکر پہنچ گئے اور بہت جھگڑے کئے مجھے میرے بھائی کے گھر سے لے جانے کی کوشش میں تھے، میں نے جواب دیا کہ میں اب تمہارے گھر نہیں جاؤں گا اور تم جب آگئی ہو، تم یہاں رہ جاؤ ، میں تمہیں کلیجہ میں بٹھالوں گا، اگر میری بات نہیں مان کر چلی جاؤ گی تو یا درکھو، ہمیشہ کے لئے تمہارا ہمارا رشتہ ختم تو میری اہلیہ مجھ سے کہنے لگی کہ میں یہاں نہیں رہوں گی ۔ چاہے تم کہیں بھی رہو مگر میرا نان ونفقہ ادا کر دو۔ میں نے نان ونفقہ دینے سے انکار کر دیا۔ اگر تم میری بات نہیں مانو گی ، نہ میں خرچ دوں گا۔ اب بھی میری بات مان جاؤ اور وہاں پر جو بھی ہے سب چھوڑ دو، میں کلیجہ میں بٹھالوں گا۔ اگر نہیں مانو گی تو یہ رشتہ ختم ہو جائے گا۔ اس پر اہلیہ نے بُرے الفاظ سے جواب دیا کہ تم رہ کر بال میں پانی ڈالے گا یہ بات سن کر ایک شخص بہت غصہ ہوا اور کہا کہ اتنے آدمیوں کے سامنے بُرا الفاظ ادا کرنا بے حیائی ہے۔ لڑکی کے باپ نے غصہ میں ہو کر کہا کہ پھینک دو اس کے بچے کو، میں تجھے پالوں گا۔ یہ بات کہتے ہی میری بیوی تین اولاد میں سے ایک چھوٹی لڑکی یعنی بیچی ۳۹ روز کی نیچے زمین میں سلا دی اور ڈھائی سال کے ایک لڑکے کو بھی چھوڑ دیا اور چھ سال کے لڑکے کو ساتھ لے کر اپنے باپ کے ساتھ چلی گئی ۔ ۱۸ / روز گزر گئے مگر اس نے اپنے بچوں کا کوئی خیال نہیں کیا۔ ۳۹ روز کی بچی کی حالت خراب ہوگئی۔ ایک شخص کے ذریعہ اس بچی کو اس کی ماں کے پاس بھیجوا دیا۔ اس کے چار گھنٹہ کے بعد وہ لوگ تھانہ پر پہنچکر میرے اور میرے بڑے بھائی کے نام سے اطلاع دئے کہ ہم لوگ بچے کو چھڑا لائے تھے اسی لئے بچہ کی حالت خراب ہوگئی ہے۔ حالانکہ وہ بچی ماں کے پاس جاتے ہی ٹھیک ہوگئی ۔ فی الحال بچی اچھی ہے۔ کچھ روز کے بعد میرے بھائی کے نام سے چوری کا جھوٹا مقدمہ لگادیا اور وہ مقدمہ ابھی چل رہا ہے آٹھ روز قبل لڑکے کے منہ کو جلادیا۔ میرے پاس روانہ کردیا اور لڑ کا ماں کے پاس جانا نہیں چاہتا ہے۔ فی الحال
الجواب: سوال میں مندرج جملہ اگر میری بات نہیں مان کر چلی جاؤ گی تو یاد رکھو ہمیشہ کے لئے ہمارا تمہارا رشتہ ختم سے اگر طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاق بائن معلق ہوئی اور یہ صورت وجود شرط واقع ہوگئی عدت کے اندر خواہ بعد عدت نکاح جدید بہ رضائے زن کر سکتے ہیں اور اگر اس جملہ سے طلاق کی نیت نہ کی تھی تو کچھ نہیں جب تک طلاق نہ دیں عورت بدستور نکاح میں رہے گی ۔ عورت کی بدخوئی پر طلاق کا اختیار ہے۔ اور صبر وحسن معاشرت به قدر امکان اجر عظیم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارلافتاءمنظر اسلام محله سوداگران، بریلی