د و طلاق رجعی میں عدت کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص کے یہاں مہمان آئے ہوئے تھے ان کی وجہ سے کھانے میں دیر ہوگئی وہ شخص کھیت سے گھر آیا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ کھانا نہیں پکایا ؟ اس کی بیوی کے جملے ہیں کہ خود پکالو، ہم سے نہیں پکتا۔ وہ غصہ میں آیا ہوا تھا اور یہ جملہ سن کر اور بھی غصہ میں بھر گیا۔ دونوں طرف سے ایک نے ایک کی برداشت نہیں کی جس کی وجہ سے حالات نازک ہو گئے اس شخص نے اپنی بیوی کو دو بار طلاق کہا۔ اس کی بیوی حالت حیض میں تھی۔ اس حائضہ کو از روئے شرع طلاق ہوئی یا نہیں ؟ مدل دلیل سے نوازیں! جواب کا منتظر، نیازمند : حاجی احمد یار خاں ، ولد منگل خاں نصر یا نجابت خاں ضلع بانس بریلی (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئیں۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے، جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دونمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ پہلے ایک نہ دی ہو ، ورنہ رجعت نہیں ہو سکتی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم بہاء المصطفیٰ قادری