بغیر طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح ہرگز جائز نہیں !
۲۱ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۲ھ علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید ایک شخص ہے جس نے شادی کی اور رخصتی کر کے اپنے گھر لے آیا تین ماہ تک دونوں میں محبت رہی بعد تین ماہ کے زید اور اس کی بیوی ہندہ کے درمیان نااتفاقی پیدا ہوگئی کیونکہ زیدرات کے وقت شراب پی کر آتا اور ہندہ سے واہیات اور فاحشات بکتا اور بُری طرح سے زدوکوب کرتا اس لئے ہندہ برابر زید کو شراب پینے سے منع کرتی رہی لیکن زید شراب کے نشہ میں دھت رہتا۔ ہندہ کوز دوکوب کرنے کی خبر جب زید کی بہن کو معلوم ہوئی اس نے بھی بھائی زید کو بہت روکا لیکن زید نے ایک نہ سنی۔ مجبور از ید کی بہن نے ہندہ کے والد کو کل حالات سے واقف کر دیا۔ تب ہندہ کے والد اپنے داما دزید کے گھر پہونچے اور اپنی لڑکی ہندہ کی رخصتی چاہی انہوں نے رخصتی دے دی کیونکہ ہندہ اس وقت بہت بیمار تھی۔ رخصتی دینے کے بعد پھر زید بندہ کو لینے نہیں آیا۔ کم از کم چار سال کا عرصہ گزرتا ہے زید نہ لے جاتا ہے نہ نان و نفقہ دیتا ہے نہ طلاق ہی دیتا ہے۔ ہندہ کے والد نے زید کو بہت تلاش کیا کیونکہ زید ایک رکشہ ڈرائیور ہے کبھی اپنے گھر
المستفتی: محمد لقمان کیراف نیشنل میڈیکل ہال، چکلیہ ہاٹ صورت مسئولہ میں زید بے قید کو تلاش کر کے جس صورت بنے ، اس سے طلاق حاصل کریں، خواہ مہر معاف کر کے یا کچھ دے کے یا یونہی بہ فہمائش تحریری طلاق لیں۔ یا جبر وا کراہ کے ذریعہ زبانی طلاق کہلوائیں۔ بغیر طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح ہندہ کو ہرگز جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲ / رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ