بغیر طلاق کے نکاح کے الزام کی صورت میں ثبوت طلاق کے لیے گواہی کا حکم
نائب صدر بنادیا گیا تو مخالفوں نے یہ آواز اٹھائی کہ زید نے جس ہندہ سے عقد کیا تھا اس کے شوہر اول نے طلاق نہیں دی تھی بلا طلاق کے زید نے ہندہ سے عقد کیا تھا اور شوہر اول سے مخالفوں نے یہ کہلوا دیا کہ میں نے طلاق نہیں دی تھی ، حالانکہ زید نے کافی تفتیش اور معلومات کرنے کے بعد عقد کیا تھا جس کے اتنی مدت گزرنے کے باوجود گواہ موجود ہیں۔ ایسی صورت میں تحریر فرمائیں کہ یہ عقد ثانی زید کا ہندہ سے درست ہے یا نہیں؟ (نوٹ:) یہ محض عداوت اور بغض کی بنا پر آواز اٹھائی گئی ہے ویسے گواہوں سے طلاق ہونا ثابت ہے۔ عینی گواہ یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے سامنے ہندہ کی طلاق ہوئی تھی ۔ غور فرمائیں اور جواب عنایت فرما کر عنداللہ مشکور ہوں ! المستفتی: احتقر رمضان علی
الجواب: طلاق کا ثبوت جب کہ شوہر منکر ہے، دومرد عادل یا دو مرد ایک عورت عدول ( متقی پرہیز گار ) کی شہادت سے ہوگا۔ وہ اگر شہادت دیں کہ شوہر نے ہمارے سامنے اپنی منکوحہ کو طلاق دی یا طلاق کا اقرار کیا تو طلاق ثابت ہے ورنہ طلاق کا ثبوت نہ ہو گا۔ اور اب شوہر ثانی پر متارکہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ! لیکن یہ بات محل نظر ہے کہ اتنے زمانے تک وہ کیوں خاموش رہے اور اب آواز کیوں اٹھائی تھی؟ اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک خوبصورت مکر وفریب ہے جولوگ اتنے زمانے تک جانتے ہوئے خاموش رہے۔ ان کی بات کا کیا اعتبار ہے؟ لہذا ہندہ کے شوہر سے بخلف پوچھا جائے اور گواہان شرعی گواہی دیں تو ان کی شہادت سے ثابت اور غلط پروپیگنڈہ کرنے والوں کا کہنا محض غلیظ و باطل ہے اور ان پر تو بہ فرض ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی