کاغذ پر تین طلاقیں لکھ دیں تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاقیں عدم موجودگی میں ہندہ کے ایک کاغذ پر لکھ چکا تھا ، جس کے گواہ ہیں عمر و امام مسجد پورنی ڈیہہ، لیکن دوران تحریر زید کے والد بکر نے پہونچکر کاغذ کو پھاڑ کر پھینک دیا، اس وقت زید کی بیوی ہندہ اپنی سسرال میں تھی۔ پھر کچھ دنوں کے بعد اپنے میکہ چلی آئی ، جب زید اپنی سسرال ہندہ کو لینے کے لئے آیا تو ہندہ کے والدین نے کہا کہ تم نے ہندہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں، ہم لوگ رخصت نہیں کریں گے۔ اس وقت زید قسم کھانے لگا اور رونے لگا اور کہنے لگا کہ ہم نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ ہندہ کے والدین نے کہا کہ تم اپنے گاؤں کے لوگوں کو لا ؤ اگر وہ لوگ کہیں گے کہ طلاق نہیں دی ہے تو رخصت کریں گے ورنہ نہیں۔ زید اپنے گھر گیا اور اپنے والد اور دیگر لوگوں کو لے کر سسرال آیا، لوگوں سے نیز اس کے والد سے پوچھا گیا تو ان لوگوں نے کہا کہ زید نے طلاق نہیں دی ہے۔ اگر طلاق کا ثبوت ہو جائے گا تو مبلغ ایک ہزار روپے انعام دیں گے اور لڑکی کو چھوڑ دیں گے۔ جس کا ثبوت آج تقریباً تین ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن نہیں ملا ہے۔ اور عمرو کہتا ہے کہ نہیں، طلاق دی ہے۔ (نوٹ): زید نے لفظ بیوی وغیرہ بھی نہیں لکھا تھا۔ لہذا قرآن و احادیث کی روشنی میں جوابات مرحمت فرمایا جائے کہ طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ یا اس کا کیا حکم ہے؟ والسلام ! لمستفتی: محمد حنیف انصاری مقام چینو ، ڈاکخانہ ڈومری ضلع گریڈ یہ (بہار)
الجواب: اگر واقعی زید نے کاغذ پر تین طلاقیں لکھیں تو زید کی بیوی ہندہ پر وہ طلاقیں واقع ہو کر بندہ زید پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی اور اگر چہ اس نے ابھی کاغذ پر بیوی کا نام نہ لکھا ہو مگر طلاق میں اضافت لفظاً ہونا ضروری نہیں ، نیٹ ودلالۂ اضافت ہونا کافی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔ بدلیل آنکه عرفا طلاق بیوی کو دی جاتی ہے، نہ کہ اجنبیہ کو ۔ مگر طلاق کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورت عدول کی گواہی سے ہوتا ہے، تنہا عورتوں کا بیان معتبر نہیں۔ لہذا شوہر جبکہ منکر ہے تو طلاق ثابت نہ ہوگی ۔ ہاں اگر عورت تین طلاقوں کی سچی مدعیہ ہے تو اسے لازم ہے کہ زید کو اپنے اوپر قابونہ دے اور اس سے ایسے بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله