لفظ چھٹی دی سے طلاق کا وقوع اور طلاق کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے نسب کا حکم
۲۸ صفرالمظفر ۱۳۹۹ھ شوہر نے دو مرتبہ کہا کہ میں نے تم کو چھٹی دی تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) زید نے اپنی بیوی ہندہ سے یہ کہا کہ میں نے تم کو چھٹی دی ، عورت یہ کہتی ہے کہ دو مرتبہ چھٹی دی اور گھر میں جو عورت یا آدمی موجود تھے وہ بھی کہتے ہیں کہ دو مرتبہ چھٹی دی اور زید یہ کہتا ہے کہ ایک مرتبہ چھٹی دی تو اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ہندہ زید کے نکاح میں رہی یا نہیں؟ کیا ہونا چاہئے ؟ جو بھی حکم ہو عنایت فرمائیں! (۲) ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ ایک سال یا ڈیڑھ سال تک مقدمہ چلا اس کے درمیان ایک بچہ پیدا ہوا تو زید کہتا ہے کہ ہمارا بچہ نہیں ہے میں نے طلاق دے دی ہے۔اس کے بعد بغیر حلالہ کے نکاح شوہر اول سے کر لیا تو یہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟ طلاق رجعی اور طلاق بائن اور طلاق مغلظہ کا حکم علیحدہ علیحدہ عنایت فرمائیں کہ کون سی ایسی صورت ہے کہ بغیر حلالہ شوہر اول کے لئے ہندہ درست ہوگئی یہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟ اور ایسے نکاح خواں کے بارے میں یا جوشر کاء نکاح تھے ان کے بارے میں کیا حکم ہے کہ ان لوگوں نے دیدہ و دانستہ نکاح پڑھایا اور نکاح میں شریک ہوئے۔ لہذا شریعت مطہرہ کا
جو حکم ہو عنایت فرمائیں۔ المستفتی: محمد صدیق قریشی شیر پورکلاں، پور نپور ضلع پیلی بھیت الجواب: جن لوگوں نے شوہر کو دو مرتبہ ”چھٹی دی“ کہتے سنا ہے وہ اگر باشرع ہیں تو دوطلاق رجعی ثابت ہیں۔ زید اب ایک طلاق کا مالک ہے۔ جب بھی ایک طلاق دے گا عورت ایسی حرام ہو جائے گی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ طلاق رجعی صریح لفظ سے واقع ہوتی ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر رجعت ہو سکتی ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہر دو تقی لوگوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں واپس لیا، اس سے رجعت کی اور کنایہ سے بائن طلاق پڑتی ہے جس کے بعد عدت میں خواہ بعد عدت بہ رضائے زن بہ مہر جدید نکاح کر سکتا ہے۔ اور تین طلاق سے حرمت غلیظہ ثابت ہوتی ہے جو بے حلالہ رفع نہیں ہو سکتی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکے گی۔ تین طلاق والی کا نکاح بے حلالہ شوہر اول سے حرام ہے اور اس میں جو واقف حال شریک ہوں سب گنہ گار، مستحق نار ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله